in

انگلش ٹیم بھارتی اسپنرز کے شکنجے سے نہ بچ سکی

انگلش ٹیم بھارتی اسپنرز کے شکنجے سے نہ بچ سکی

بھارتی کرکٹ ٹیم کے اسپنرز نے انگلش بلے بازوں کو اپنی گھومتی ہوئی گیندوں کے جال میں جکڑ کر چنائے چدمبرم اسٹیڈیم میں کھیلا جانے والا دوسرا ٹیسٹ 317 رنز کے بڑے مارجن سے جیت لیا جس میں ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے لیفٹ آرم اسپنر اکشر پٹیل اور آل رائونڈر روی چندرن ایشون نے مرکزی کردار ادا کیا جبکہ روہت شرما نے پہلی اننگز میں166 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ بھارت کی اس کامیابی سے 4 ٹیسٹ میچز کی سیریز 1-1 س برابر ہوگئی۔ دو ہفتے قبل انگلینڈ نے اسی مقام پر بھارت کو شکست سے دوچار کیا تھا ۔سیریز کے باقی دو ٹیسٹ احمد آباد میں کھیلے جائیں گے۔

بھارتی کرکٹ ٹیم کے اسپنرز نے انگلش بلے بازوں کو اپنی گھومتی ہوئی گیندوں کے جال میں جکڑ کر چنائے چدمبرم اسٹیڈیم میں کھیلا جانے والا دوسرا ٹیسٹ 317 رنز کے بڑے مارجن سے جیت لیا جس میں ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے لیفٹ آرم اسپنر اکشر پٹیل اور آل رائونڈر روی چندرن ایشون نے مرکزی کردار ادا کیا جبکہ روہت شرما نے پہلی اننگز میں166 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ بھارت کی اس کامیابی سے 4 ٹیسٹ میچز کی سیریز 1-1 س برابر ہوگئی۔ دو ہفتے قبل انگلینڈ نے اسی مقام پر بھارت کو شکست سے دوچار کیا تھا ۔سیریز کے باقی دو ٹیسٹ احمد آباد میں کھیلے جائیں گے۔

بھارت نے پہلی اننگز میں روہت شرما کے 161 ریہانے کے 67 اور ریشابھ پنت کے 58 رنز کی بدولت 329 رنز جوڑے تھے ۔ انگلینڈ کے معین علی نے 4 اولی سٹون نے 3 اور جیک لیچ نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔ جواب میں انگلینڈ کی ٹیم غیر متوقع طور پر بھارتی اسپن لولرز کی گھومتی ہوئی گیندوں کے سامنے جم کر نہ کھیل سکی اورروہت شرما کی اننگز کے مساوی رنز بھی نہیں بنا پائی۔ پوری ٹیم 134 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
ایشون نے مہمان ٹیم کی تباہی میں مرکزی کردار ادا کیا اور 43 رنز دے کر 5 کھلاڑی آؤٹ کیے۔ تین ٹیسٹ میچوں میں مسلسل سنچریاں داغنے والے انگلش کپتان جو روٹ 6 رنز بنا سکے۔ بین فوکس 42 رنز ناٹ آؤٹ ٹاپ اسکورر تھے۔ اولی پوپ 22 بین اسٹوکس 18 اور سبلی 16 رنزبنا سکے۔ سات کھلاڑی دہرے ہندسے میں داخل نہیں ہو سکے۔ ایشانت شرما اور اکشر پٹیل نے دو دو بلے باز پویلین بھیجے۔

بھارت کی دوسری اننگز کا آغاز بھی مایوس کن انداز میں ہوا۔ روہت شرما 26 گل 14 چتیشور پوجارا 7 رنز بنا کر پویلین چلے گئے تھے۔ لیچ نے 2 کھلاڑی آؤٹ کیے تھے جبکہ پوجارا رن آؤٹ ہوئے۔ اس مرحلے پر کپتان ویرات کوہلی نے ایک اینڈ سنبھالا لیکن دوسرے اینڈ سے مسلسل وکٹیں گر رہی تھیں ۔ لیچ نے اجنکیا ریہانے جبکہ معین علی نے ریشابھ پنت اور اکشر پٹیل کو آؤٹ کر دیا۔ بھارت کا اسکور 6 وکٹوں پر 106 رنز تھا۔ اس نازک اور مشکل مرحلے پر ایشون نے بھارتی ٹیم کی ڈوبتی کشتی کو سہارا ہی نہیں دیا بلکہ پار لگانے کا کارنامہ انجام دیا۔ کوہلی اور ایشون نے ساتویں وکٹ کی شراکت میں 96 فیمتی رنزوں کااضافہ کیا ۔ اسکور 202 تھا تو کوہلی 62 رنز پر معین علی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ ایشون دوسرے اینڈ پر جارحانہ کھیل پیش کر رہے تھے ۔ باقی ماندہ کھلاڑی ان کو زیادہ سہارا نہ دے سکے ۔ کلدیپ یادیو 3 ایشانت شرما 7 رنز پر بالترتیب معین علی اور لیچ کا شکار بنے تاہم محمد سراج نے ایشون کی سنچری بنوانے اور ٹیم کا مجموعہ 286 تک پہنجانے میں بھرپور مدد دی۔ آخری وکٹ کی شراکت میں 49 فیمتی زنز بنے۔ ایشون نے 143 گیندوں پر 14 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے اپنی سنچری مکمل کی اور وہ اسٹون کی گیند پر کلین بولڈ ہو گئے ۔ محمد سراج 16 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔

انگلینڈ کو میچ جیتنے کیلئے 482 رنز کا بڑا ٹارگٹ ملا تھا اوراس ہدف کو حاصل کرنے کیلئے اس کے پاس وقت بھی کافی تھا لیکن اسپنرز کیلئے انتہائی سازگار وکٹ پر انگلینڈ کیلئے اس ٹارگٹ کو حاصل کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا تھا۔ بھارتی اسپنر اکشر پیٹل دوسری اننگز میں انگلش بلے بازوں کیلئے زیادہ خطرناک ثابت ہوئے۔ اوپنر ڈوم سبلی تین رنز پراکشر پٹیل کا شکار بنے۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے انگلش وکٹیں خزاں رسیدہ پتوں کی طرح گرتی رہیں اور پوری ٹیم کی بساط صرف 164 رنز پر چوتھے روز ہی لپٹ گئی۔ انگلینڈ کے آل راؤنڈر معین علی نے 18گیندوں پر 43 رنز کی طوفانی اننگز کھیلی۔ کپتان جوروٹ 33 لارنس 26 اور برنز 25 اولی پوپ 12 رنز ہی ڈبل فیگر میں داخل ہو سکے۔ اکشر پٹیل نے 60 رنز دے کر 5 ایشون نے 3 اور کلدیپ یادیو نے 2 کھلاڑی آؤٹ کیے۔ بھارتی سر زمین پر جو روٹ پہلی بار کسی ٹیسٹ میچ میں نصف سنچری بنانے میں ناکام رہے۔

رنزوں کے اعتبار سے یہ انگلینڈ کے خلاف بھارت کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔ اس سے قبل بھارت نے انگلینڈ کو اس کی سرزمین پر 1986 میں ہیڈنگلے ٹیسٹ میں 279 رنز سے ہرایا تھا ۔ بھارت 6 مرتبہ انگلینڈ کو ایک اننگز کے مارجن سے بھی شکست دے چکا ہے۔ اکشر پٹیل نے دوسری اننگز میں 5 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی تھی جبکہ پہلی اننگز میں انہوں نے دو وکٹیں لی تھیں۔
روی چندرن ایشون نے اپنے ہوم گراؤنڈ پر بیٹ اور بال کے ذریعے شان دار آل راؤنڈ کارکردگی پیش کی جس کی وجہ سے وہ پلیئر آف دی میچ قرار پائے ۔ انہوں نے اپنی اسپن بولنگ سے پہلی اننگز میں انگلبنڈ کے 5 بلے بازوں کو ٹھکانے لگایا اور دوسری اننگز میں 3 وکٹیں حاصل کیں ۔ انہوں نے دوسری اننگز میں 106 فیمتی رنز بنا کر بھارت کی سبقت پر بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ یہ ان کے کیریئر میں تیسرا موقع تھا کہ وہ ٹیسٹ میں سنچری بنانے اور اننگز میں 5 وکٹیں لینے میں کامیاب ہوئے۔

ایشون نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 2 مرتبہ یہ کارنامہ انجام دیا ۔ پہلی بار سن 2011 کو نارتھ ساؤنڈ ٹیسٹ میں انہوں نے سنچری بنانے کے ساتھ اننگز میں 5 کھلاڑی آؤٹ کیے تھے اور بھارت یہ میچ ایک اننگز اور 63 رنز سے جیت گیا تھا جبکہ سن 2016 میں یادگار ممبئی ٹیسٹ میں بھی انہوں نے یہ تاریخی کارکردگی دہرائی تھی جو ڈرا ہو گیا تھا۔ اس میچ میں ویسٹ انڈیز نے بھارت کو 243 رنز کا ٹارگٹ دیا تھا لیکن بھارتی ٹیم 9 وکٹوں پر 242 رنز بنا پائی تھی۔ ان دونوں میحوں میں بھی ایشون ہی پلیئر آف دی میچ تھے۔

روی چندر ایشون سے زیادہ یعنی 5 مرتبہ انگلینڈ کے آل راؤنڈر ایان بوتھم نے ایک ٹیسٹ میں سنچری اور اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ پانچ مرتبہ انجام دیا ہے۔ کرکٹ میں اسے ڈبل کا نام دیا جاتا ہے۔ ایان بوتھم نے 102 ٹیسٹ میچوں میں انگلینڈ کی نمائندگی کی تھی جبکہ ایشون نے بھارت کی جانب سے 76 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں۔ بوتھم نے نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف دو دو مرتبہ اور بھارت کے خلاف ایک بار ڈبل کا یہ کارنامہ انجام دیا ۔ سر گیری سوبرز، مشتاق محمد، جیک کیلس اور شکیب الحسن نے دو دو مرتبہ یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ بھارت کی جانب سے پولی امریگر اور ونو منکڈ نے ایک ایک بار یہ کارنامہ انجام دیا لیکن دونوں کھلاڑیوں کو ان ٹیسٹ میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ویسٹ انڈیز کے روسٹن چیز یہ ڈبل اعزاز حاصل کرنے والے آخری کھلاڑی تھے جنہوں نے سن 2016 میں بھارت کے خلاف ٹیسٹ میں سنچری اور اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کی تھیں اسی سیریز میں اس سے پہلے ٹیسٹ میں ایشون یہ کام کر چکے تھے۔ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں 33 مرتبہ ڈبل کا یہ کارنامہ انجام دیا گیا جن میں انگلینڈ 6 کے ساتھ سر فہرست جبکہ بھارت اور ویسٹ انڈیز پانچ پانچ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
ایشون نے تیسری مرتبہ آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے سنچری بنائی ہے ۔ نیوزی لینڈ کے سابق کپتان اور اسپنر ڈینیل ویٹوری نے آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے 4 سنچریاں اور نویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے ایک ٹیسٹ سنچری اسکور کی ہے۔

اکشر پٹیل ٹیسٹ ڈیبیو میں ایک اننگز میں 5 یا اس سے زائد وکٹیں حاصل کرنے والے بھارت کے نویں بولر ہیں۔ اکشر نے 60 رنز دے کر پانچ کھلاڑی آؤٹ کیے تھے۔ بھارتی اسپنر نریندرا ہیروانی کو چنائے کے اسی گراؤنڈ پر سن 1988 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو میں دونوں اننگز میں آ ٹھ آٹھ کھلاڑی آؤٹ کرنے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔ بھارت نے یہ میح 243 رنز سے جیتا تھا ۔ ٹیسٹ ڈیبیو میں اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کرنے والے دیگر بولرز میں محمد شامی، عابد علی، محمد نثار، روی چندرن ایشون، دلیپ دوشی، وی وی کمار، امیش مشرا شامل ہیں۔ چنائے کے چدمبرم اسٹیڈیم میں عابد علی، نریندرا ہیروانی اور اکشر نے ڈیبیو ٹیسٹ میں یہ اعزاز حاصل کیا۔

چنائے میں انگلینڈ کوزیر کرنے کے بعد ویرات کوہلی نے بھارتی سرزمین پر سب سے زیادہ ٹیسٹ میچ جیتنے والے بھارتی کپتان ایم ایس دھونی کا ریکارڈ برابر کر دیا جنہوں نے ہوم گراؤنڈ پر 30 ٹیسٹ میچز میں سے 21 میں کامیابی حاصل کی جبکہ کوہلی نے 28 میں سے 21 ٹیسٹ میچ جیتے۔ تاہم ٹیسٹ میچز میں مجوعی فتوحات میں کوہلی 34 ٹیسٹ جیت کر آگے ہیں ۔ ایم ایس دھونی نے 27 ٹیسٹ میچوں میں بھارت کو فتح سے ہمکنار کیا تھا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

شوہر نےسیلفی کے بہانے حاملہ بیوی کوپہاڑ سے گرادیا

شوہر نےسیلفی کے بہانے حاملہ بیوی کوپہاڑ سے گرادیا

ن لیگی رہنما مشاہد اللہ خان انتقال کرگئے

ن لیگی رہنما مشاہد اللہ خان انتقال کرگئے