in

پولیس کمائی میں مصروف، طالبان کراچی پہنچ گئے

پولیس کمائی میں مصروف، طالبان کراچی پہنچ گئے

کراچی میں کرائم رپورٹرز کو نیوز روم کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ جرائم کے اعتبار سے کراچی دنیا کا سب سے خطرناک ترین شہر بن گیا تھا اور یہ ہی وجہ تھی کہ کرائم رپورٹنگ، شہر کی سب سے گرم بیٹ تصور کی جاتی تھی۔

لیکن گزشتہ چند سالوں سے ان جید رپورٹرز کی پریشانیوں میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ اب یہ اکژ پریس کلب میں بیٹھ کر یہ باتیں کرتے ہیں کہ یار معاملات ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ کام کم ہو گیا ہے۔ اب زیادہ سے زیادہ اسٹریٹ کرائم کی خبر ڈال دو، یا کوئی سی سی ٹی وہ فوٹیج چلا دو اور بہت زیادہ ہوا تو عشق میں ناکامی پر قتل کی خبر دے کر حاضری تو لگوادو۔

اور اب تو یہ عالم ہے کہ اگر اسٹریٹ کرائم کا ڈیٹا سب سے پہلے ہاتھ لگ جائے تو صاحبان خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ یہ ان لوگوں کی بات ہو رہی ہے جو بم دھماکوں میں جائے وقوعہ پرپہنچ کر تفصیلات اکٹھی کرتے تھے۔ خود کش بمبار کے تن سے جدا سر کو دیکھ کر اندازہ لگاتے تھے کہ کیا واقع یہ خود کش بمبار تھا یا پھر دہشت گردی کا شکار کسی فردکا سر ہے۔ لیکن اب سب بےتاب ہیں۔ کیا یہ سب لوگ سائبر کرائم جیسے پرکشش وائٹ کالر کرائم پر کام کرنے لگ گئے ہیں؟؟

انیس اپریل کو سندھ کاونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈی آئی جی عمر شاہد حامد، جو کہ ایک اعلی پولیس افسر ہونے کے ساتھ ساتھ ناول نگار بھی ہیں، ایک پریس کانفرنس کرتے ہیں۔ تفصیلات بتاتے ہوئے عمر شاہد حامد نے بتایا کہ سی ٹی ڈی اور پاکستان رینجرز نے جامشورو، جو کے کراچی سے زیادہ دور نہیں، مشترکہ کاروائی کر کے پانچ دہشت گردوں کو، جن میں دو خودکش بمبار بھی شامل تھے، کو گرفتار کر لیا ہے،

یہ کہ دہشت گردوں کا تعلق تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔ دوران تفتیش گرفتاردہشت گردوں نے پاکستان میں ماضی میں ہونے والی دہشت گردی کے چھ واقعات کی زمہ داری قبول کی اور بتایا کہ وہ مستقبل میں بلدیہ ٹاون میں واقع سعید آباد پولیس ٹریننگ پر حملہ کرنا چاہتے تھے اور ان کا ٹارگٹ اس ٹریننگ سینٹر میں زیر تربیت سینکڑوں پولیس اہلکار تھے۔

اسی دن ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر جو کہ ایک اعلی پولیس افسر ہیں اور دہشت گردی کا قلع قمع کرنے میں اپنا کردار ادا کر چکے ہیں، ایک اعلامیہ جاری کرتے ہیں جس کہ مطابق ملیر پولیس تحریک طالبان پاکستان کا ایک کارندہ دھر لیا ہے۔

مختلف مقامات سے تحریک طالبان پاکستان کے کارندوں کی گرفتاری کے بعد کرائم رپورٹرز کو احساس ہونے لگا ہے کہ شاید ان کی بیٹ دوبارہ گرم ہونے والی ہے۔

کراچی میں ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب دہشت گردوں کی گرفتاریوں کا اعلان اتنی کثرت سے ہوتا تھا کہ نیوز رومز کے پاس ہر پریس کانفرنس کو کور کرنے کیلئے مطلوبہ کرائم رپورٹرز نہیں ہوتے تھے، اخباری نمائندوں نے دلچسپ خبروں کو یک کالمی خبروں تک محدود کردیا تھا۔ ٹی وی کرائم رپورٹرز تواتر کے ساتھ ٹیکسٹ میسجز یا واٹس ایپ گروپس پر ٹکرز فائل کریں گے لیکن وہ آپ کی اسکرین سے نیچے جاتے ہوئے غائب ہوجائیں گے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے شہر کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کیلئے رینجرز کو ذمہ داری سونپی۔ پولیس، حساس اداروں اور رینجرز نے اس پر کام شروع کردیا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ہونڈا کمپنی کا 100فیصد الیکٹرک گاڑیاں بنانے کا اعلان

ہونڈا کمپنی کا 100فیصد الیکٹرک گاڑیاں بنانے کا اعلان

کروناویکسین سائنوویک سے متعلق وزارت صحت کی گائیڈلائنز

کروناویکسین سائنوویک سے متعلق وزارت صحت کی گائیڈلائنز