in

عدالت کا نوازشریف کی تمام جائیداد نیلام کرنیکا حکم

عدالت کا نوازشریف کی تمام جائیداد نیلام کرنیکا حکم

احتساب عدالت اسلام آباد نے نواز شریف کی تمام جائیداد نیلام کرنے کا حکم دے دیا۔

احتساب عدالت اسلام آباد میں جمعہ 23 اپریل کو توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ اس موقع پر جج سید اصغر علی نے نیب کی جانب سے دائر اشتہاری ملزم نواز شریف کی جائیداد نیلامی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

اس موقع پر عدالت نے قومی احتساب بیورو ( نیب) راول پنڈی کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم نواز شریف کو توشہ خانہ کیس میں اشتہاری ہونے پر ان کی تمام جائیداد نیلام کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی جہاں جہاں جائیداد ہے، متعلقہ صوبائی حکومت نیلام کرسکے گی۔ ڈپٹی کمشنر لاہور اور شیخو پورہ 60 روز کے اندر جائیداد سے متعلق رپورٹ پیش کریں۔ عدالتی حکم میں یہ بھی کہنا تھا کہ جائیدادیں نیلام کرکے تمام رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے۔ نواز شریف کی گاڑیاں بھی تیس دن کے اندر نیلام کی جائیں۔ پولیس کی مدد سے گاڑیاں قبضے میں لے کر بیچی جائیں۔

اس موقع پر عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ نواز شریف کے بینک اکاؤنٹس سے رقوم سرکاری خزانے میں منتقل کی جائے۔ جس جس جائیداد پر اعتراض نہیں آیا اسے نیلام کی جائے۔ مری اور چھانگلہ گلی کے گھر کی ضبطگی پر مریم نواز نے اعتراض کر رکھا ہے۔

جاری عدالتی حکم کے مطابق نواز شریف کے 4 کمپنیوں میں شئیرز، 8 بینک اکاؤنٹس میں رقوم بھی حکومت کو منتقل ہوں گی۔ بڈوسکانی اور فیروز وطن میں نواز شریف کی جائیداد نیلام کی جا سکے گی۔ ایک لینڈ کروزر ، 2 مرسڈیز اور 2 ٹریکٹر بھی نیلام کئے جا سکیں گے۔ اس موقع پر نواز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ موضع مانک، اپر مال ، شیخو پورہ کی ذرعی زمین پر اعتراضات موجود ہیں۔ یوسف عباس، مشتاق رانا اور اقبال محسن نے اعتراضات دائر کئے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مری اور چھانگہ گلی کے گھر کی ضبطگی پر مریم نواز نے اعتراض دائر کر رکھا ہے۔ انہوں نے درخواست میں مؤقف اپنایا تھا کہ دونوں گھر ان کی مرحومہ والدہ کلثوم نواز کے نام پر ہیں، دونوں گھر ریفرنس میں درج عرصے سے بہت پہلے خریدے گئے تھے اور کلثوم نواز کے انتقال کے بعد ان کی ملکیت 14 مئی 2019 کے حکم کے مطابق قانونی ورثا کو منتقل ہوگئی تھی، یہ گھر اب قانونی ورثا کی مشترکہ ملکیت میں غیر منقسم جائیدادیں ہیں۔

واضح رہے کہ نوازشریف کو توشہ خانہ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔ احتساب عدالت نے گزشتہ سال 17 اگست 2020 کو نواز شریف کو اشتہاری قرار دیا، جب کہ یکم اکتوبر کو جائیداد ضبطگی کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔

نواز شریف کی جائیداد سے متعلق قومی احتساب بیورو نے درخواست دی تھی کہ جائیداد ضبطگی کے احکامات کو بھی 6 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور نواز شریف نے ابھی تک جان بوجھ کر عدالت کے سامنے سرنڈر نہیں کیا، لٰہذا قانون کے مطابق مجاز اداروں کو ضبط کی گئی جائیداد کی نیلامی کے احکامات جاری کیے جائیں۔ عدالت نے نیب کی درخواست پر گزشتہ روز سماعت کا آغاز کیا تھا۔

نیب نے الزام لگایا کہ سابق وزیر اعظم یوف رضا گیلانی نے بددیانتی سے اور غیر قانونی طور پر تحفے دینے کے ضوابط میں نرمی کرکے آصف زرداری اور نواز شریف کو گاڑیوں کی الاٹمنٹ میں سہولت فراہم کی تھی۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

بھارت میں کورونا کی صورتحال تشویشناک اداکارہ شسمیتاسین کو نیکی کرنی مہنگی پڑ گئی سوشل میڈیا پر تنقید شروع ہو گئی

بھارت میں کورونا کی صورتحال تشویشناک اداکارہ شسمیتاسین کو نیکی کرنی مہنگی پڑ گئی سوشل میڈیا پر تنقید شروع ہو گئی

کراچی اورحیدرآباد میں کیسز بڑھنا پریشان کن بات ہے،مراد علی شاہ

کراچی اورحیدرآباد میں کیسز بڑھنا پریشان کن بات ہے،مراد علی شاہ