in

کرپشن کیس پرسرکاری ملازم کوترقی نہیں ملے گی، وفاقی وزیرتعلیم

کرپشن کیس پرسرکاری ملازم کوترقی نہیں ملے گی، وفاقی وزیرتعلیم

حکومت نے ایسے سرکاری ملازمین جن کیخلاف نیب یا ایف آئی اے میں کیس چل رہا ہو اسے ترقی نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پلی بارگین کرنیوالوں کیخلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

حکومتی انتظامی کمیٹی کے انچارج شفقت محمود نے پريس کانفرنس ميں چند نئی اصلاحات متعارف کرواديں، جن ميں اپوائنٹنگ اتھارٹيز کی وضاحت کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس سرکاریئ ملازم کیخلاف نيب يا ايف آئی اے ميں کيس چل رہا ہے، اسے پروموٹ نہيں کيا جائے گا، جن ملازمين کیخلاف 3 سال سے کيسز زير التواء ہيں اُن کی پروموشنز کا جائزہ ليا جائے گا جبکہ پلی بارگين کرنیوالوں کیخلاف ڈسپلنری ايکشن ليا جائے گا۔

حکومت نے سرکاری ملازمین کے حوالے سے کئی قوائد و ضوابط تبدیل کردیئے، اصلاحاتی کمیٹی بھی تشکیل دیدی، ای اینڈ ڈی رولز میں ترمیم کے مطابق الزامات کتنے بھی ہوں، انکوائری ایک ہی ہوگی، صوبائی ملازمین کیخلاف انکوائری وفاق بھی کرسکے گا۔

اصلاحات کے مطابق پلی بارگین کرنے والے افسران ضابطے کی کارروائی سے اب نہیں بچیں گے، ایم پی اسکیل کا دورانیہ 3 سال کردیا گیا ہے، دو سال ہارڈ ایریاز میں سروس کرنا لازمی ہوگی، کوئی افسر ایک ہی صوبے میں 10 سال سے زیادہ تعینات رہ سکے گا۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز میں ترامیم کی گئی ہیں تاکہ سرکاری ملازمین کا ڈسپلن بہتر ہو جائے، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پاکستان پولیس سروس کیلئے روٹیشن پالیسی بھی بنائی ہے۔

وفاقی وزیر شفقت محمود نے بتایا کہ ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد کم کرنے کی کوئی تجویز نہیں، البتہ پنشن اصلاحات سے متعلق تجاویز زیر غور ضرور ہیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Dr Faisal Sultan

پاکستان مارچ تک کروناویکسین کی 10لاکھ خوراکیں حاصل کرلے گا

وزیراعظم نے فارن فنڈنگ کیس کی اوپن سماعت کی تجویزدیدی

وزیراعظم نے فارن فنڈنگ کیس کی اوپن سماعت کی تجویزدیدی