in

میڈیکل طلبا کا احتجاج بھوک ہڑتالی کیمپ میں تبدیل

میڈیکل طلبا کا احتجاج بھوک ہڑتالی کیمپ میں تبدیل

خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع اور صوبہ بلوچستان کے میڈیکل طلباء نے اسلام آباد میں پاکستان میڈیکل کمیشن کے سامنے 2 ہفتوں سے جاری دھرنے کو بھوک ہڑتالی کیمپ میں تبدیل کردیا ہے۔ شریک طلبا کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک ہڑتال کیمپ جاری رہے گا۔

کیمپ میں بیٹھے طلباء کی جانب سے بروز جمعرات 9 اپریل کو بھوک ہڑتال شروع کر گئی، جس کی وجہ سے متعدد طلباء کی حالت بھی غیر ہوگئی۔ دھرنے میں شریک طالب علم امین وزیر کا کہنا ہے کہ سال 2015 سے قبائلی اضلاع اور بلوچستان کے میڈیکل طلباء کو ملک بھر کے میڈٰیکل کالجز اور یونیورسٹیوں میں 265 سیٹوں پر داخلے دیئے جاتے تھے مگر اس سال پاکستان میڈیکل کمیشن نے بغیر کسی قانونی جواز کے سیٹوں کو گھٹا کر 29 کر دیا جو اتنے بڑے علاقے کے طلباء کیلئے انتہائی کم ہیں۔

امین وزیر کا مزید کہنا تھا کہ یہ 29 سیٹس بھی صرف خیبر پختونخوا کے میڈیکل کالجز کیلئے ہیں، باقی پاکستان کے کالجز کی سیٹوں کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے۔ ایک اور طالبعلم آصف محسود نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک بھر کے میڈیکل کالجز میں مختص سیٹوں کو برقرار رکھے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء 29 مارچ سے مطالبات کے حق میں کمیشن کے سامنے دھرنے میں بیٹھے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے صرف وعدے کئے اور یقین دہانیاں ہی کرائی جارہی ہیں۔

احتجاجی طلباء کا کہنا ہے ہم نے معاملے کو ڈپٹی اسپیکر، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، سمیت وفاقی وزیر مراد سعید تک پہنچایا مگر تاحال کوئی داد رسی نہیں ہوئی۔ طلباء کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس یہاں رہنے اور کیمپ چلانے کے پیسے بھی ختم ہو گئے ہیں، اس لئے ہم نے بھوک ہڑتالی کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ طلباء نے بتایا کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے مسئلے کے حل کیلئے پاکستان میڈیکل کونسل کے صدر سے ملاقات کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم مطالبات کی منظوری تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔

دھرنے میں بیٹھے طلباء نے مزید کہا کہ ہر سال سابق فاٹا کے میڈیکل طلباء کیلئے ملک کی مختلف یونیورسٹیوں اور کالجز میں داخلوں کیلئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے انٹری ٹیسٹ کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں کامیاب طلباء کو داخلہ دینے کیلئے پاکستان میڈیکل کمیشن کو پابند بنایا گیا کہ انہیں ایڈجسٹ کریں گے۔ اس سال بھی ایچ ای سی کے ذریعے انٹری ٹیسٹ لیا گیا مگر کامیاب طلباء کو پی ایم سی کی جانب سے کالجز اور سیٹ آلاٹ نہیں کی جارہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے ضلع مہمند سے ممبر قومی اسمبلی اور وزارت ریاستی و سرحدی امور کی قائمہ کمیٹی کے سربراہ ساجد خان نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ انہوں نے پاکستان میڈیکل کونسل کے صدر کی غفلت کے خلاف استحقاق کمیٹی میں تحریک استحقاق جمع کر رکھی ہے جسے ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے اور آئندہ ہفتے ہونے والے اجلاس میں اس معاملے پر غور کیا جائے گا۔

پی ایم سی سربراہ اور وزارت صحت حکام سے براہ راست بات کرنے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ معاملے پر ہر دروازہ کھٹکھٹایا مگر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ہم طلباء کے مطالبات کے حق میں ہیں، حکومت کی کوشش ہے کہ اس سال طلباء کو ایڈجسٹ کرکے آئندہ کیلئے مستقل بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کریں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Temba Bavuma

جنوبی افريقی کپتان انجری کے باعث ٹی20 سيريز سے باہر

اپنا بیان واپس لیں ورنہ ۔۔ وزیراعظم کے زیادتی کے واقعات سے متعلق بیان پر اداکارہ آمنہ الیاس ناراض ہو گئیں حیران کن بات کہہ دی 

اپنا بیان واپس لیں ورنہ ۔۔ وزیراعظم کے زیادتی کے واقعات سے متعلق بیان پر اداکارہ آمنہ الیاس ناراض ہو گئیں حیران کن بات کہہ دی