in

کوہاٹ میں قتل حریم کے لواحقین کاپولیس تفتیش پرعدم اطمینان

کوہاٹ میں قتل حریم کے لواحقین کاپولیس تفتیش پرعدم اطمینان

کوہاٹ میں اغواء کے بعد قتل کی گئی 4 سالہ حریم فاطمہ کے لواحقین نے پولیس تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا۔ حریم کے دادا فرہاد حسین کا کہنا ہے کہ خاتون سہولت کار ہوسکتی ہے، وہ اکیلے کسی کو قتل نہیں کرسکتی، ہمیں اصل ملزمان چاہئیں، پولیس اس کیس کو دبانے کیلئے جان چھڑا رہی ہے۔

کوہاٹ کے علاقے خٹک کالونی کی رہائشی 4 سالہ بچی حریم فاطمہ کو مارچ کے آخری ہفتے میں اغواء کے بعد قتل کردیا گیا تھا، بچی کی لاش گھر سے 2 کلو میٹر دور ایک نالے کے قریب سے ملی تھی۔ ڈاکٹروں نے بچی پر تشدد کی تصدیق کی تھی۔

مقتولہ حریم فاطمہ کے دادا فرہاد حسین نے پریس کانفرنس میں پولیس تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم پولیس کی تفتیش سے مطمئن نہیں، ڈی پی او کہتے ہیں خاتون ذہنی مریضہ ہیں، ذہنی مریضہ تو کچھ بھی کہہ سکتی ہے۔

فرہاد حسین کا دعویٰ ہے کہ دوران تفتیش ہم پر دباؤ بھی ڈالا گیا، اکیلی عورت دن دیہاڑے بچی کو کیسے قتل کرسکتی ہے، پولیس جان چھڑانے کے بجائے اصل قاتل سامنے لائے، ہمیں اصل مجرمان چاہئیں، پولیس اس کیس کو دبانے کیلئے جان چھڑا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 12 گھنٹے قبل موت ظاہر کی گئی جو رات کے 8 یا 9 بجے کا وقت بنتا ہے مگر ڈی پی او نے پریس کانفرنس میں کہا کہ لاش عصر کے وقت پھینکی گئی۔

حریم فاطمہ کے دادا کا کہنا تھا کہ جو عورت گرفتار ہے، کیا ثبوت ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی وہی تھی۔

فرہاد حسین نے مزید کہا کہ انتہائی ناقص تفتیش کی گئی ہے، ہم ڈی این اے ٹیسٹ سے بھی مطمئن نہیں، ڈی پی او نے ایک ہفتہ قبل ملزمان کی نشاندہی کا کہا تھا مگر اب صرف ایک عورت کو سامنے لایا گیا، مزید ملزمان کہاں ہیں۔

مقتولہ حریم فاطمہ کے چچا حسن فرہاد نے پولیس تفتیش میں لگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا، انہوں نے کہا کہ گرفتار خاتون سے کوئی تعلق نہیں تھا، الزم بالکل من گھڑت ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

پی ڈی ایم اتحاد کاکوئی وجود نہيں رہا، میاں افتخار

پی ڈی ایم اتحاد کاکوئی وجود نہيں رہا، میاں افتخار

ملتان:اپنی قبر خود کھودنے والا گرفتار کرلیاگیا

ملتان:اپنی قبر خود کھودنے والا گرفتار کرلیاگیا