in

پاکستان میں 70فیصد خواتین صحافیوں کوآن لائن تشدد کاسامنا، رپورٹ

پاکستان میں 70فیصد خواتین صحافیوں کوآن لائن تشدد کاسامنا، رپورٹ

پاکستان میں 70 فیصد خواتین صحافیوں کو 2020ء میں صحافتی ذمہ داریوں اور آن لائن اظہار رائے کے باعث دھمکی یا حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستانی خواتین صحافیوں کا کہنا ہے کہ صحافتی ذمہ داریوں اور اظہار رائے میں سب سے بڑی رکاوٹ آن لائن تشدد ہے، اگر سیلف سنسر شپ نہ کریں تو آن لائن تشدد کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کی شائع کردہ نئی ریسرچ کے مطابق پاکستانی خواتین صحافیوں نے آن لائن تشدد کو اپنے صحافتی کام اور ذاتی اظہار میں سیلف سنسر شپ کی سب سی بڑی وجہ بتایا ہے۔

اسلام آباد میں ایک آن لائن تقریب میں بدھ کو ریسرچ کا اجرا کیا گیا۔ ویمن جرنلسٹس اینڈ دی ڈبل بائینڈ کے عنوان سے شائع کردہ اس ریسرچ میں حصہ لینے والی ہر دس میں سے 9 خواتین صحافیوں کے مطابق اگر وہ اپنے خیالات کے آن لائن اظہار کو سنسر نہ کریں تو اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ انہیں آن لائن تشدد کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ریسرچ سروے میں شامل تقریباً 70 فیصد خواتین صحافی شرکاء کو 2020ء میں اپنے صحافتی کام اور آن لائن ذاتی رائے کے اظہار کی وجہ سے کسی نہ کسی قسم کی دھمکی یا حملے کا سامنا کرنا پڑا، 2018ء میں یہ شرح 60 فیصد تھی۔

میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کی ریسرچ 2018ء میں شائع کردہ ریسرچ کا تسلسل ہے۔ تحقیق کا سیاق و سباق 2020ء میں پاکستانی خواتین صحافیوں کی جانب سے جاری دو مشترکہ بیانات سے منسلک ہے جن میں صحافیوں نے ان پر ہونیوالے آن لائن حملوں اور مبینہ طور پر ملوث مختلف سیاسی پارٹیوں کے کارکنان کی نشاندہی کی تھی۔

حالیہ ریسرچ میں خواتین صحافیوں نے سوشل میڈیا کے بطور سیاسی ہتھیار کے استعمال اور مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے صحافیوں کی کردار کشی کی منظم مہمات کے متعلق بات کی۔

صحافیوں کے مطابق آن لائن تشدد میں ریپ اور جان سے مار دیئے جانے کی دھمکیاں بھی شامل ہیں جو کہ ناصرف ان کے جسمانی اور ذہنی تحفظ کیلئے خطرے کی بات ہیں بلکہ ان کے صحافتی کام کیلئے معلومات کے ذرائع تک پہنچنے میں بھی ایک بہت بڑی رکاوٹ بنتی ہیں۔

ریسرچ کیلئے کئے جانیوالے سروے میں شامل تقریباً 80 فیصد خواتین صحافیوں کے مطابق پچھلے 3 سالوں میں سیلف سنسر شپ میں اضافہ ہوا ہے، خواتین صحافی یہ بھی سمجھتی ہیں کہ سیلف سنسر شپ کئے بغیر پاکستان میں صحافت ممکن نہیں۔

ریسرچ کے مطابق وہ خواتین صحافی جنہوں نے آن لائن خطرات کی وجہ سے اپنے کام کو محدود کیا ان کی شرح 90 فیصد رہی، یہ شرح 2018ء میں 87 فیصد تھی۔

خواتین صحافیوں کی ایک بہت بڑی تعداد کے مطابق وہ آن لائن اپنے ذاتی خیالات کے اظہار میں بہت احتیاط برتتی ہیں، 93 فیصد خواتین صحافیوں کے مطابق انہوں نے اپنے آن لائن ذاتی خیالات کے اظہار میں خود پر پابندیاں لگائیں، دو سال پہلے یہ شرح 83 فیصد تھی۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

لکی مروت میں جیل کے باہر فائرنگ سے 5 افراد ہلاک 2 زخمی 

لکی مروت میں جیل کے باہر فائرنگ سے 5 افراد ہلاک 2 زخمی 

محمد سہیل ڈی جی ماس ٹرانزٹ کے ڈی اے تعینات

محمد سہیل ڈی جی ماس ٹرانزٹ کے ڈی اے تعینات