in

عوامی نیشنل پارٹی کا پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے علیحدگی کااعلان

عوامی نیشنل پارٹی کا پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے علیحدگی کااعلان

عوامی نیشنل پارٹی نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔ امیر حیدر خان ہوتی کہتے ہیں کہ شوکاز کا مطلب اے این پی کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے، ہمیں دیوار سے لگایا جارہا ہے، سیاسی جماعت ہیں، جمعیت علمائے اسلام (ف) یا مسلم لیگ ن میں ضم نہیں ہوسکتے، ذاتی ایجنڈے کیلئے کسی کا ساتھ نہیں دے سکتے۔

عوامی نیشنل پارٹی کا ہنگامی اجلاس پشاور میں ہوا جس کے بعد امیر حیدر ہوتی نے میاں افتخار حسین سمیت دیگر رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے کہا کہ اے این پی اجلاس کا ایجنڈا پی ڈی ایم کا شوکاز نوٹس تھا، جوائنٹ ڈيکليئريشن کے ساتھ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ بنانے کا فيصلہ کيا تھا، پی ڈی ایم کے جوائنٹ ڈیکلیئریشن کے نکات سب دیکھ لیں، تحريک کے آخری مرحلے پر لانگ مارچ کی طرف جانا تھا، استعفوں کے معاملے پر اے اين پی کا مؤقف واضح تھا، ہم نے کہا تھا استعفوں کے بغير لانگ مارچ کا کوئی فائدہ نہيں۔

ان کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس ميں دورياں پيدا ہوئيں، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کب سے سیاسی جماعت بن گئی ہے؟، شوکاز نوٹسز سیاسی جماعت میں دیئے جاتے ہیں، اے این پی ایک سیاسی جماعت ہے اور پی ڈی ایم کا حصہ ہے، ہم صرف اسفند یار ولی کو جوابدہ ہیں۔

امیر حیدر ہوتی نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے اے این پی کی علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی ایجنڈے کیلئے کسی کا ساتھ نہیں دے سکتے، جمعیت علمائے اسلام (ف) یا مسلم لیگ ن میں ضم نہیں ہوسکتے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی کو وضاحت کے باوجود شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا، ہم وضاحت دينے کيلئے تيار تھے، ہم سے جواب لينے کا اختيار صرف اسفنديار ولی کو ہے، ن ليگ کے اميدوار پر پيپلزپارٹی کو اعتراض تھا، ہم نے ڈبل ٹھپے نہيں لگائے، پی پی پی کے اميدوار کو ووٹ ديا۔

عوامی نیشنل پارٹی نے اپوزیشن لیڈر کے انتخاب میں پیپلزپارٹی کا ساتھ دیا تھا اور یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں قائد حزب اختلاف بنوادیا تھا۔ مسلم لیگ ن اعظم نذیر تارڑ کو اپوزیشن لیڈر بنانا چاہتی تھی۔ جس پر پی ڈی ایم نے پاکستان پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم نے سینیٹ انتخابات میں مل کر حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا، تمام جماعتوں کے ووٹوں کے باعث پیپلزپارٹی کے یوسف رضا گیلانی سینیٹر منتخب ہوئے تاہم چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اے این پی رہنماء نے مزید کہا کہ ہميں مؤقف پيش کرنے کا موقع دینے کے بجائے شوکاز بھيج ديا گيا، شوکاز نوٹس کا مطلب اے اين پی کی ساکھ کو نقصان پہچانا ہے، ہميں ديوار سے لگاديا گيا ہے، سربراہ کا يہ کردار نہيں ہوتا کہ اس طرح حملہ آور ہو، ہمیں نظر آرہا ہے پی ڈی ایم کو ذاتی ایجنڈے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔

امیر حیدر ہوتی نے یہ بھی کہا کہ ذاتی ايجنڈے کیلئے کسی کا ساتھ نہيں دے سکتے، برابری کی بنياد پر بات نہ کرنے والوں سے بات کرنا ممکن نہيں، اے اين پی مخصوص سیاسی ايجنڈے سے نکل رہی ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

سری لنکا سے پاکستان قیدیوں کی منتقلی، معاملہ حکومت کو بھیج دیا

سری لنکا سے پاکستان قیدیوں کی منتقلی، معاملہ حکومت کو بھیج دیا

ترک صدرکا سابق فوجیوں پر ‘سیاسی بغاوت’ کا الزام

ترک صدرکا سابق فوجیوں پر ‘سیاسی بغاوت’ کا الزام