in

حکومت کی جانب سے مساجد بند کرنے کی خبریں درست نہیں،طاہر اشرفی

حکومت کی جانب سے مساجد بند کرنے کی خبریں درست نہیں،طاہر اشرفی

علامہ طاہر اشرفی نے بتایا ہے کہ آئین پاکستان نے تمام اقلیتوں کے حقوق کا تعین کردیا ہے۔ ملک میں اقلیتوں کے قتل کی ہمیشہ مذمت کی گئی ہے اور کبھی کسی مقتدرعالم اور مفتی نےکسی کو قتل کرنے کا نہیں کہا۔ اکابرین امت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہےاور ہرشخص فتویٰ نہیں دے سکتا کیوں کہ فتوی کے لیےکچھ مخصوص علم کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسلام آباد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی بین المذاہب ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی نے پریس کانفرنس کرتےہوئے بتایا کہ ملک کے اندر بین المذاہب ہم آہنگی کی صورتحال عوام کے سامنے ہے۔ مرکزی، ضلعی اور ڈویژنل سطح پر بین المذاہب کمیٹیاں بنتی جارہی ہیں اور کنوئینرمقرر کردیے گئے ہیں جنھوں نے اپنا کام شروع کردیا ہے۔ موجودہ حکومت کا کارنامہ ہے کہ مدارس کووزرات تعلیم کیساتھ منسلک کیا۔

کرونا سے متعلق انھوں نے کہا کہ بعض اینکرز بھی کرونا ویکسین کے حوالے سے فتوی دے رہے ہیں۔ زندگی بچانے کےلیے ویکیسن لگوانی چاہئے۔مخیر حضرات کرونا ویکسین خرید کر مستحقین کو لگواسکتے ہیں کیونکہ جس نے ایک انسان کو بچایا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔ انھوں نے کہا کہ کرونا کی تیسری لہر بہت خطرناک ہے اورعوام سے اپیل ہے کہ ماسک اور رومال کا استعمال کریں۔

انھوں نے تردید کی کہ حکومت کی جانب سے مساجد کو بند کرنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔پاکستان میں سب سے زیادہ ایس او پیز پر مساجد میں عمل ہوا اور ایس او پیز کیساتھ مساجد کھلی رہیں گی جبکہ تروایح اور نماز بھی ہوگی۔

سیاست سےمتعلق ان کا کہنا تھا کہ سیاست کے لیے شرعی اصطلاحات نہیں ملانی چاہیے۔مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہمیشہ دھوکا ہی ہوا ہے۔جعلی اسمبلی کہنے والے صدر اور سینیٹ الیکشن میں حصہ لیتے ہیں اور مولانا فضل الرحمن کے آس پاس کرپٹ لوگ کھڑے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کا جہاد آصف زرداری اور نواز شریف کو اقتدار میں لانا اور وزیراعظم عمران خان کو اقتدار سے ہٹانا ہے تو یہ نہ جہاد ہے اور نہ ہی اسلام میں جائز ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Sugar sacks

بھارت سے کاٹن اور چینی درآمد کرنے کا فیصلہ

چئیرمین ایچ ای سی کی برطرفی انسانی اور قانونی حقوق کا مسئلہ ہے،طارق بنوری

چئیرمین ایچ ای سی کی برطرفی انسانی اور قانونی حقوق کا مسئلہ ہے،طارق بنوری