in

ریگل چوک پر پارسی کمپاؤنڈ کیوں مسمار کیا جارہا ہے؟

ریگل چوک پر پارسی کمپاؤنڈ کیوں مسمار کیا جارہا ہے؟

کراچی کے علاقے ریگل چوک کے قریب پارسی کمپاؤنڈ کو مسمار کرنے کا کام گزشتہ 3 روز سے جاری ہے۔ اس بات کی تصدیق ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن جنوبی کے افسر نے بھی کی ہے تاہم انہیں نہیں معلوم کہ اسے مسمار کرنے کی وجوہات کیا ہیں۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی ارشاد علی سودھڑ نے بتایا کہ یہ معاملہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے تعلق رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ تاریخی ثقافتی عمارت کے زمرے میں آئے گی تو ضلعی انتظامیہ اس پر کارروائی کرے گی بصورت دیگر ہم کسی ادارے کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتے۔

ایس بی سی اے صدر ٹاؤن کے ڈائریکٹر محمد رقیب نے اس حوالے سے بتایا کہ صدر کے علاقے میں پارسی کمپاؤنڈ کو مسمار کرنے کا کام چند روز سے جاری ہے، اس پارسی کمپاؤنڈ کو کچھ سال قبل ایک نجی پارٹی نے خرید لیا تھا جبکہ ماضی میں اسے گرانے کیلئے ایس بی سی اے سے اجازت بھی حاصل کرلی تھی،  جس وقت میں صدر ٹاؤن کا ڈائریکٹر نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے ڈائریکٹر ایس بی سی اے صدر ٹاؤن کا چارج سنبھالے چند ماہ ہوئے ہیں، میرے پاس پارسی کمپاؤنڈ کی خرید و فروخت کے معاہدے سے متعلق معلومات نہیں ہیں تاہم یہ بات یقینی ہے کہ وہ (نجی مالکان) ایس بی سی اے سے کمپاؤنڈ مسمار کرنے کی اجازت حاصل کرچکے ہیں۔

ڈائریکٹر صدر ٹاؤن نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایس بی سی اے کی ٹیم پارسی کمپاؤنڈ کو مسمار کرنے کی کارروائی میں حصہ نہیں لے رہی اور یہ کام نجی مزدوروں کے ذریعے کرایا جارہا ہے۔

اس کمپاؤنڈ میں رہنے والے خاندان کے رشتہ دار پارسی شخص نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں بتایا کہ یہ کمپاؤنڈ 15-2014ء میں فروخت کردیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے رشتہ داروں نے مجھے بتایا تھا کہ اس زمین پر تجارتی منصوبے کی تعمیر شروع کی جارہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارسی خاندان اس کمپاؤنڈ کو چھوڑ کر جاچکے تھے اور حالیہ دنوں میں یہاں رہائش ترک کردی گئی تھی۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تین روز میں3  عرب فنکاروں کی پراسرار موت

تین روز میں3 عرب فنکاروں کی پراسرار موت

سومناتھ مندر کےقریب غزنوی کی تعریف، مسلمان یوٹیوبر گرفتار

سومناتھ مندر کےقریب غزنوی کی تعریف، مسلمان یوٹیوبر گرفتار