in

سیاسی انتقام کا حصہ بننے سے انکار کیا تھا، موسوی

سیاسی انتقام کا حصہ بننے سے انکار کیا تھا، موسوی

مشہور زمانہ براڈ شیٹ کے عہدیدار کاوے موسوی نے سماء ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے وقت بھی پرویز مشرف کو بتا دیا تھا کہ ہ صرف نواز شریف کے پیچھے نہیں جائیں گے اور ہم کسی پالیٹیکل ’وچ ہنٹ‘ کا حصہ نہیں بنیں گے۔

سماء ٹی وی کے پروگرام ایجنڈا 360 میں میزبانوں نے کاوے موسوی سے پوچھا کہ کیا واقعی نیب آپ کے ذریعے احتساب کروانا چاہتی تھی یا صرف مخالفین کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تھا۔

کاوے موسوی نے جواب دیا کہ جب نیب کے ساتھ معاہدہ ہوا تو جنرل امجد سربراہ تھے اور وہ نیک نیتی کے ساتھ کام کر رہے تھے مگر پھر مشرف نے ان کو ہٹاکر کسی اور کو تعینات کردیا براڈشیٹ کو دی گئی فہرست سے آفتاب شیرپاؤ سمیت مختلف نام نکلنے کی فرمائشیں آنے لگی تو میں سجھ گیا کہ حکومت احتساب میں سنجیدہ نہیں ہے۔

کاوے موسوی نے یاد دلایا کہ جب نیب اور براڈ شیٹ کا معاہدہ ہورہا تھا تو پرویز مشرف کو واضح الفاظ میں بتادیا تھا کہ ہم صرف نواز شریف کے خلاف تحقیقات نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی سیاسی انتقامی کارروائی کا حصہ بنیں گے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ انہوں نے معاہدہ ختم ہونے تک کتنی رقم کا سراغ لگایا تھا۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’اربوں ڈالرز‘ کا پتہ چل گیا تھا مگر نیب نے ہماری تحقیقات کو ثبوتاژ کردیا۔

انہوں نے لندن ہائیکورٹ کے جج کے الفاظ نقل کرتے ہوئے کہا کہ ’نیب نے براڈ شیٹ کو دھوکا دیا۔ غیرقانونی طور پر معاہدہ ختم کیا اور براڈ شیٹ کے خلاف سازش کی۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ معاہدے سمیت عدالتی کارروائی منظرعام پر کیوں نہیں لائی جارہی۔ کیا وہ اس کے خلاف ہیں۔ کاوے موسوی نے جواب دیا کہ میں پاکستان کی حکومت کو اجازت دیتا ہوں کہ وہ نیب اور براڈ شیٹ کیس کی کارروائی منظر عام پر لائے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تحریک انصاف کو فارن فنڈگ کی وضاحت کرنی چاہیے،تجزیہ کار

تحریک انصاف کو فارن فنڈگ کی وضاحت کرنی چاہیے،تجزیہ کار

ایم کیوایم کاالیکشن سے پہلے مردم شماری کرانے کا مطالبہ

ایم کیوایم کاالیکشن سے پہلے مردم شماری کرانے کا مطالبہ