in

میرٹ پرپورانہ اترنےوالے امیربچوں کوڈاکٹربنتا نہیں دیکھ سکتے،پی ایم سی

HYD medical entry test

رپورٹ: محمد وقار بھٹی

میرٹ پر پورا نہ اترنے والے امیر والدین کے بچوں کو پیسے کے بل بوتے پر میڈیکل کالجز میں داخلے اور ڈاکٹر بنتا ہوا نہیں دیکھ سکتے، سندھ میں 8 ہزار سے زائد طالب علموں نے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ میں 60 فیصد سے زائد نمبر حاصل کیے لیکن وسائل نہ ہونے کے سبب وہ میڈیکل کالجز میں داخلہ نہیں لے سکے، میرٹ پر پورا اترنے والے مگر وسائل نہ رکھنے والے طالب علموں کے لیے فنڈ قائم کر رہے ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات اور معاشرے کے درد مند افراد سے کہیں گے کہ فنڈ میں پیسے دیں تاکہ کوئی بھی ذہین مگر غریب طالب علم وسائل نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہ سکے۔

ان خیالات کا اظہار نو تشکیل شدہ پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) کے صدر ارشد تقی نے پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے تحت ہفتے کے روز ہونے والے آن لائن سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

پیما کی جانب سے منعقدہ ویبنار سے پی ایم سی کے صدر ڈاکٹر ارشد تقی کے علاوہ، پی ایم سی کی ممبر ڈاکٹر رومینا حسن، جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق رفیع، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر خالد مسعود گوندل، یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر عامر زمان، پرنسپل جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج پروفیسر حسین مہدی، پیما سینٹر کے مرکزی صدر ڈاکٹر خبیب شاہد، پیما کراچی کے صدر پروفیسر عظیم الدین اور دیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ ماڈریٹر کے فرائض معروف سرجن ڈاکٹر عبداللہ متقی نے سر انجام دیے۔

ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل کمیشن کے صدر ڈاکٹر ارشد تقی کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں پرائیویٹ ڈینٹل کالجوں میں داخلے اس لیے نہیں ہوئے کیونکہ میڈیکل کالجز میں داخلہ لینے والے اکثر طلباء ڈینٹل کالجز میں نہیں جانا چاہتے، ماضی میں ہیلتھ ریگولیٹر نے ڈینٹل کالجز کی سیٹیں بھرنے کا ٹھیکا لے رکھا تھا اور وہ طالبعلم جنہیں میڈیکل کالج میں داخلہ نہیں ملتا تھا انہیں ڈینٹل کالجز میں بھیج دیا جاتا تھا۔

ڈاکٹر ارشد تقی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں ڈینٹل سرجری کی تعلیم مکمل کرنے والے 50 فیصد سے زائد ڈینٹل سرجن پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے لائسنس حاصل نہیں کر رہے تھے، ڈینٹل کالجز کی سیٹیں بھرنے کے لیے میرٹ کو مزید نیچے نہیں کر سکتے۔

سندھ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں 8 ہزار سے زائد طلبہ نے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ میں 60 فیصد سے زائد نمبر حاصل کیے لیکن وسائل نہ ہونے کے سبب ان بچوں نے پرائیویٹ میڈیکل کالجز اور سیلف فنانس پر داخلے نہیں لیے، جبکہ دوسری طرف کہا جارہا ہے کہ امیر والدین کے میرٹ پر پورا نہ اترنے والے بچوں کو داخلے دیے جائیں لیکن ہم میرٹ پر کمپرومائز نہیں کریں گے۔

ڈاکٹر ارشد تقی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میڈیکل کمیشن سے لائسنس حاصل کیے بغیر پریکٹس کرنے والے ڈاکٹر جرم کر رہے ہیں اور ایسے لوگوں کو پریکٹس کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طارق رفیق رفیع کی تجویز پر ان کا کہنا تھا کہ وہ 162 میڈیکل یونی ورسٹیوں اور میڈیکل کالجز کے سربراہان کو خط لکھنے کے لیے تیار ہیں جس میں ان سے تجاویز مانگی جائیں گی جبکہ پاکستان میڈیکل کمیشن تمام سرکاری اور غیر سرکاری یونیورسٹیوں اور کالجز کے خدشات دور کرنے کے لیے ان سے ڈائیلاگ کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔

اس موقع پر پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن نے میڈیکل یونی ورسٹیوں، کالجوں اور پاکستان میڈیکل کمیشن کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کے لیے اپنی خدمات پیش کردیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shahid and Shaheen

شاھين کی فيملی نےبيٹی کے رشتے کيلئے رابطہ کياہے، شاہدآفریدی

Fulbright-Pakistan

امریکا نے پاکستانی طلبا کیلئے فل برائٹ اسکالرشپ کااعلان کردیا