in

پاکستانی اسمگلرز کا نہلے پر دہلا، نائجیرین مافیا بے بس

پاکستانی اسمگلرز کا نہلے پر دہلا، نائجیرین مافیا بے بس

یہ کیس سردخانے کی نظر ہو چکا تھا۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ کیا ہوا ہے، یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب اس کیس میں جیل کسٹڈی پر ایک ملزم نے سندھ ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی۔ اسی دوران 27 فروری کو رات نو بجکر چھپن منٹ پر کرائم رپورٹرز کے گروپ میں ایک یک سطری خبر آئی کہ ایس ایچ او اور ایس آئی او ڈیفنس پولیس اسٹیشن کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

نومبر 14، 2020 کی دوپہر کو کراچی پولیس کمپلینٹ نمبر پر انٹرنیشنل نمبر سے کال آتی ہے، پولیس کے مطابق کالر صحیح طریقے سے اردو بول بھی نہیں سکتا تھا اس نے بتایا کہ کراچی میں واقع ایک بنگلے میں کچھ غیر ملکیوں کو یرغمال بنایا گیا ہے۔ کالر نے پولیس کو مغوی کا پاکستانی رابطہ نمبر دیا اور اس نمبر کی مدد سے پولیس نے ایڈریس ڈھونڈ نکالا۔

آپریٹر نے شام 5 بجے وائرلیس کیا اور بتایا کہ ڈیفنس فیز سیون میں واقع ایک بنگلے میں کچھ غیر ملکیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ وائرلیس پیغام پر گزری اور ڈیفنس پولیس کی دو پولیس موبائل بتائے گئے پتے پر پہنچ جاتی ہیں اور پھر تعین ہوتا ہے کہ یہ ڈیفنس پولیس کی حدود ہے۔ پولیس بنگلے کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے اور اندر سے ایک شخص، جس نے اپنا نام ادیب شاہ بتایا، آتا ہے اور دروازہ کھولتا ہے۔ پولیس بنگلے کے اندر داخل ہوتی ہے اور وہاں سے تین نائجیرین باشندے صحیح سلامت برآمد ہو جاتے ہیں۔

ان کی شناخت اگوجی سیموئیل اگوچیکو، لکی اباروہا اور انوروم ایمیکا کے ناموں سے ہوتی ہے۔ مغویوں کے ساتھ ایک اور شخص بھی موجود ہوتا ہے جس کا نام حاجی عمران بتایا جاتا ہے جو کہ ان پر نطر رکھے ہوتا ہے۔ اس کے پاس سے ایک پسٹل بھی برآمد ہوتا ہے پولیس اسے بھی ادیب شاہ سمیت گرفتار کر لیتی ہے۔

مبینہ مغویوں اور اغواکاروں کو پولیس موبائل میں ڈال کر تفتیش کے لیے ڈیفنس تھانے لے آتی ہے جہاں اگوجی سیموئیل اگوچیکو کی مدعیت میں اغوا کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کر لیا جاتا ہے۔

مدعی مقدمہ اپنے بیان میں پولیس کو بتاتا ہے کہ اس کاتعلق نائجیریا سے ہے اور وہ گارمنٹس کا کاروبار کرتا ہے۔ وہ یکم مئی 2020 کو کاروبار کے سلسلے میں پاکستان آیا۔ نائجیریا میں اس کے ایک دوست، جس کا نام اس نے مائیک بتایا، نے اس کو پاکستان میں مقیم حاجی عمران کا ریفرنس دیا اور کہا کہ حاجی عمران اس کو پاکستان میں گارمنٹس کے کاروبار سے منسلک چوٹی کے کاروباری حضرات سے ملوائے گا۔ مدعی کے بیان کے مطابق جب وہ یکم مئی کو جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پہنچتا ہے تو یہاں ایک شخص، جس نے اپنا نام ریاض بتایا، وہ اسے ائیرپورٹ سے لیتا ہے اور ایک نامعلوم جگہ پر لے جاتا ہے جہاں پر اس سے پاسپورٹ اور ناجیرین سم کارڈ لے لیا جاتا ہے اور اس کو بتایا جاتا ہے کہ اس کے دوست مائیک نے حاجی عمران کے پچاس ہزار ڈالرز ادا کرنےتھے، جو کہ اس نے تاحال واپس نہیں کیے۔ ایک پاکستانی نمبر سے اگوجی کی بات اس کے دوست مائیک سے کروائی گئی جس نے تصدیق کی کہ اس نے حاجی عمران کے پچاس ہزار ڈالرز ادا کرنےہیں اور کال کاٹ دی۔ اگوجی کے مطابق اس دن کے بعد اس نے مائیک کا نمبر کئی دفعہ ٹرائی کیا مگر وہ نمبر پھر کبھی آن نہ ہوا۔

اگوجی نے مزید بتایا کہ کچھ دنوں بعد حاجی عمران نے رات کی تاریکی میں اسے ایک اور جگہ منتقل کیا جہاں اس نے دیکھا کہ اس کے ملک کے دو اور باشندے وہاں مغوی بنا کر رکھے گئے ہیں۔ تین ماہ بعد اغوا کاروں نے اس کا رابطہ اس کی فیملی سے کروایا۔ ایک ویڈیو کال کروائی گئی جس میں اگوچی نے اپنی رہائی کے عوض پچاس ہزار ڈالرز کی درخواست کی۔ یہ ویڈیو کال بھی ایک پاکستانی سم کارڈ کے ذریعے کروائی گئی۔ پھر 14 نومبر کو پولیس نے اس بنگلے میں پہنچ کر چھاپا مارا اور اس کو دو اور نائجیرین باشندوں سمیت بازیاب کروا لیا۔

مقدمے کہ اندارج کے اگلے ہی دن پولیس مغویوں اور اغواکاروں کو ایک انسداددہشت گردی کی عدالت میں پیش کرتی ہے جہاں مغوی اور دو اغوا کار اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہیں۔ ڈیفنس پولیس اسٹیشن کے سابق ایس آئی او محمد وسیم ابڑو کے مطابق مجسٹریٹ نے کہا کہ اگر تینوں نائجیرین باشندے واپس جانا چاہتے ہیں تو انہیں واپس جانے دیا جائے، یہ ہی وہ پوائنٹ ہے جہاں سے اصل کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔

رہائی ملنے کے بعد تینوں نائجیرین منظر عام سے غائب ہو جاتے ہیں۔ ادیب شاہ اور حاجی عمران تاحال جیل میں ہیں۔ ادیب شاہ ضمانت کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرتا ہے کہ اگر مدعی مقدمہ ہی فرار ہو گیا ہے تو وہ اب تک جیل میں کیوں سڑ رہا ہے، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ درخواست کا جائزہ لیتے ہوئے رک جاتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ یہ کس قسم کی انوسٹیگیشن ہے۔ مدعی کہاں ہے؟ قانونی طور پر رہا ہونے والے نائجیرین کوان کی ایمبیسی کے حوالے کیا جانا تھا۔ چیف جسٹس فورا ایڈدیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن اور ڈی آئی جی سی آئی اے عارف حنیف کو طلب کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ اس کیس کودوبارہ کھولا جائے، تحقیقات کی جائیں اور رپورٹ عدالت میں جمع کروائی جائے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

سبی میں دھماکا، 5 مزدور جاں بحق، 5 افراد زخمی

سبی میں دھماکا، 5 مزدور جاں بحق، 5 افراد زخمی

واٹس ایپ ڈیسک ٹاپ ورژن میں نئے فیچرز متعارف

واٹس ایپ ڈیسک ٹاپ ورژن میں نئے فیچرز متعارف