in

کیا بریانی کھانے سے شوگر ہوتی ہے؟

کیا بریانی کھانے سے شوگر ہوتی ہے؟

اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں کھائے جانے والے کھانوں کو یکسر تبدیل کر دیا جائے کیونکہ چاول کا بے تحاشا استعمال خاص طور پر بریانی کی صورت میں ذیابطیس کے مرض کی ایک بڑی وجہ بن گیا ہے کیوں کہ ملک میں دعوتوں میں کھانا اور ہوٹلنگ کرنے کو ایک تفریح سمجھا جانے لگا ہے جس کے نتیجے میں کروڑوں افراد شوگر کے مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آئندہ چند سالوں میں پاکستان معذوروں کی تعداد کے حوالے سے دنیا کے چند بڑے ممالک میں سے ایک ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار ماہرین امراض ذیابطیس نے بدھ کے روز مقامی ہوٹل میں ’ڈسکورنگ ڈائبیٹیز‘ نامی پروجیکٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا- یہ پروجیکٹ پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی اور مقامی دوا ساز ادارے فارم ایوو نے مشترکہ طور پر شروع کیا ہے جس کے تحت ایک ہیلپ لائن کے ذریعے ذیابطیس کے مریضوں کو ان کے مرض کے حوالے سے آگاہی اور معروف ڈاکٹروں سے متعارف کروایا جائے گا۔

پروفیسر تسنیم احسن کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت جو کچھ بھی کھایا جا رہا ہے وہ سب غلط ہے اور بریانی اور کولڈ ڈرنک جو پہلے صرف اور صرف شادیوں کی تقریبات میں پیش کیے جاتے تھے اب روزمرہ کی خوراک کا حصہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کھانا ایک تفریح کا ذریعہ بن چکا ہے لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ملک میں کھانے پینے کی عادات کو یکسر تبدیل کروایا جائے اور تفریح کے نئے مواقع اور طریقے فراہم کی جائیں تاکہ قوم کو ذیابطیس اور دیگر بیماریوں سے بچایا جا سکے۔

پروفیسر تسنیم احسن کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کی 26 فیصد بالغ آبادی ذیابطیس کے مرض میں مبتلا ہے اور بدقسمتی سے ان میں سے آدھے لوگوں کو یہ علم ہی نہیں کہ وہ اس مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈسکورنگ ڈائبٹیز ہیلپ لائن کے ذریعے عوام الناس کو شوگر کے مرض کے حوالے سے معلومات فراہم کی جائیں گی اور ڈاکٹر سے رابطہ بھی کروایا جائے گا۔

معروف ماہر ذیابطیس پروفیسر زمان شیخ کا کہنا تھا کہ شوگر کا مرض ایک خاموش قاتل ہے جو کہ لوگوں کے گردے، آنکھیں، دل اور دماغ کو خاموشی کے ساتھ تباہ کرتا رہتا ہے اور بدقسمتی سے اکثر لوگوں کو اپنی بیماری کا اس وقت علم ہوتا ہے جب ان کے اعضاء کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ذیابطیس کی بیماری ایک میٹھی لیکن خطرناک بیماری ہے جو کہ انسان کو اندرونی طور پر تباہ کر دیتی ہے۔

مقامی دوا ساز ادارے فارم ایوو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید جمشید احمد کا کہنا تھا کہ اس پروجیکٹ کو شروع کرنے کا مقصد ایک صحت مند معاشرے کا قیام ہے کیوں کہ پاکستان میں بدقسمتی سے کروڑوں لوگ ذیابطیس کے مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود اپنی بیماری سے لاعلم ہیں۔

سید جمشید احمد کا کہنا تھا کہ اگر کوئی پاکستانی فرد 40 سال سے زائد عمر کا ہے اور اس کے والدین یا بہن بھائیوں میں سے کسی کو پہلے سے ہی ڈائبیٹیز کا مرض لاحق ہے اور اس فرد کی کمر 36 انچ سے زائد ہے تو وہ فرد یا تو اس مرض میں مبتلا ہو چکا ہے یا کچھ عرصے بعد مبتلا ہو جائے گا ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے افراد کو فوری طور پر اپنے کھانے پینے کی عادات تبدیل اور ورزش شروع کرنی چاہیے تاکہ جتنا ہوسکے یہ مرض دیر سے لاحق ہو یا اگر یہ لاحق ہوگیا ہے ہوچکا ہو تو اسے کنٹرول میں رکھا جاسکے۔ ذیابطیس کے مرض میں مبتلا لوگوں کو پہلی فرصت میں ذیابطیس کے ماہر معالج سے علاج شروع کروانا چاہیے تاکہ ان کے جسم کے اعضاء ناقابل تلافی نقصان پہنچنے سے بچ سکیں۔

دیگر ماہرین بشمول پروفیسر تسنیم احسن، پروفیسر جاوید اقبال، پاکستان اینڈوکرائین سوسائٹی کے نو منتخب صدر پروفیسر ابرار احمد، پروفیسر زمان شیخ، ہارون قاسم، اینکر وسیم بادامی اور اداکار عمران عباس نے بھی خطاب کیا جن کا کہنا تھا کہ اپنی صحت خاص طور پر ذیابطیس کے مرض سے لاعلمی اب ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے جس کا خمیازہ دل کے دورے، فالج، گردوں کے ناکارہ ہونے اور اندھے پن کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

ہیلپ لائن



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ویڈیو: پولارڈ کے6 گیندوں پر6 چھکے

ویڈیو: پولارڈ کے6 گیندوں پر6 چھکے

GOLD RATE, PAKISTAN,

سونے کی قیمت میں مزید 1900روپے کی کمی