in

لاہور، قبضہ مافیا کا سرپرست پولیس افسر گرفتار

لاہور، قبضہ مافیا کا سرپرست پولیس افسر گرفتار

لاہور میں قبضہ مافیا کی پشت پناہی کرنے والا پولیس کا تھانیدار نکلا۔ بزرگ شہری  کو جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر اس کے گھر پر قبضہ کرایا مگر معاملہ کھل کر سامنے آیا تو تھانیدار کو حوالات کی ہوا کھانا پڑ گئی۔

لاہور کے حسن ٹاون کے رہائشی ستر سالہ بزرگ محمد عبداللہ پر سبزہ زار پولیس اسٹیشن کے تھانیدار نے مقدمہ درج کرکے اسے اشتہاری تک قراردے دیا۔

محمد عبداللہ نے بتایا کہ مجھے چالیس سال اس گھر میں ہوگئے ہیں، یہ 1982 میں خریدا ہے۔ اس وقت سے یہ لوگ مجھ ےدھمکا رہے ہیں۔ شہباز نام کے تفتیشی افسر نے کہا بابا تم پر بھی مقدمہ ہے بیٹھ جاؤ۔ آپ لوگوں کا علاج کرلیتے ہیں، جب تمھاری چھترول ہوگی سب کچھ چھوڑ دوگے اور مان بھی جاؤگے۔

جعلی مقدمہ کے بعد قبضہ گروپ سے سازباز کرکے اس کے گھر پر قبضہ کروانے کی کوشش کی گئی لیکن شائد تھانیدار کا کام کچا تھا۔

محمد عبداللہ کا کہنا ہے کہ قبضہ اس طرح چھوٹا کہ ون فائیو پر کال کی پولیس آگئی۔ اس کے بعد صاحب کی فورس آگئی جس نے ہمارا قبضہ بحال کروایا۔

ون فائیو پرایک کال سے پولیس حرکت میں آئی۔ افسران نے کارروائی کرتے ہوئے تھانیدار شہباز اور ایک کانسٹیبل کو گرفتار کرکے حوالات میں بند کردیا جس پر بزرگ شہری شکریہ ادا کرنے سی سی پی او کے پاس پہنچ گیا۔

سی سی پی او غلام محمود ڈوگرنے بتایا کہ دو تین روز پہلے بزرگ شہری کے مکان پر قبضہ ہوا تھا جس پر کارروائی کرتے ہوئے تھانیدار کو گرفتار کیا گیا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

اسکول میں مار کھانے کے دن گئے، شہزاد رائے

اسکول میں مار کھانے کے دن گئے، شہزاد رائے

کروناوائرس صحتیاب مریضوں کو دوبارہ متاثر کررہا ہے، ڈاکٹرجاوید

کروناوائرس صحتیاب مریضوں کو دوبارہ متاثر کررہا ہے، ڈاکٹرجاوید