in

پریزائیڈنگ افسران نے انتخابی نتائج میں گڑبڑ کی، ریٹرننگ آفیسر

پریزائیڈنگ افسران نے انتخابی نتائج میں گڑبڑ کی، ریٹرننگ آفیسر

ریٹرننگ آفیسر نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ کے 14 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کی تجویز دیدی۔ ان کا کہنا ہے کہ پریزائیڈنگ افسران نے نتائج میں گڑبڑ کی ہے۔

این اے 75 ڈسکہ میں جمعہ 19 فروری کو ضمنی انتخاب کیلئے پولنگ ہوئی، اس دوران پرتشدد واقعات میں 2 افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے، کئی پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ کا عمل بھی روک دیا گیا تھا، انتخابی نتائج میں تاخیر کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نتائج روک دیئے تھے۔

ریٹرننگ آفیسر نے الیکشن کمشنر پنجاب کی جانب سے 8 پریزائیڈنگ افسران کے انٹرویوز کے بعد ڈسکہ کے 14 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کی تجویز دی۔

ریٹرننگ آفیسر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ پریزائیڈنگ افسران انٹرویو کے دوران ’’حیران اور خوفزدہ پائے گئے‘‘ اور انہوں نے ’’بے سرو پا بہانے بنائے کہ نقل و حمل میں مشکلات تھیں، واٹس ایپ کام نہیں کررہا تھا، وغیرہ۔

رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی امیدوار نوشین افتخار نے حلقے کے 340 پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور اس کے نتائج بدستور برقرار رکھنے کی تجویز دی ہے۔

البتہ درخواست گزار اور پریزائیڈنگ افسران کی جانب سے جمع کرائے گئے 14 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے موازنے میں واضح فرق دیکھنے میں آیا ہے۔

ریٹرننگ آفیسر کی رپورٹ کے مطابق پہلی نظر میں ظاہر ہوتا ہے کہ پریزائیڈنگ افسران کی جانب سے نتائج میں گڑبڑ کی گئی اور انصاف کا تقاضہ ہے کہ مذکورہ پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرائی جائے۔

این اے 75 ڈسکہ میں مسلم لیگ ن کی امیدوار نوشین افتخار اور پاکستان تحریک انصاف کے اسجد ملہی کے درمیان سخت مقابلہ تھا۔

ن لیگ کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ 150 پولنگ اسٹیشنز کے فارم 45 میں سے 10 پر ہی انگوٹھوں کے نشان ہیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ایک اور بھارتی اداکار کی گھر سے لاش برآمد خودکشی کا امکان 

ایک اور بھارتی اداکار کی گھر سے لاش برآمد خودکشی کا امکان 

ارطغرل غازی کی اداکارہ نے شادی کرلی

ارطغرل غازی کی اداکارہ نے شادی کرلی