in

دریائے ستلج پر کشتیوں کا پل

دریائے ستلج پر کشتیوں کا پل

کشتيوں کو بريکٹ لگاکرروک ديا جاتا ہے

بہاولپوراورلودھراں کےدرمیان موجوددریائےستلج کو پار کرنے کےلیے کشتیوں کا پل موجود ہے۔

کشتيوں کا پل اس مقام پر کئی برس سےقائم ہے۔دریا میں جب گہرا پانی ہوتا تھا تو کشتیاں چلتی تھی تاہم اب ان ہی کشتیوں کو پل کےلیے استعمال کیا جاتا ہے۔500ميٹر طویل پل لوگ خود بناتے ہيں اور کشتيوں کو بريکٹ لگاکرروک ديا جاتا ہے۔کشتيوں کےاوپرلوہے کے گارڈرنصب ہوتےہيں۔گارڈرکے اوپرلکڑی کےپٹڑےلگائےگئےہيں۔ سرائيکی زبان ميں اس جگہ کو”پتن” کہتےہيں اوراورپل کو بنانے ميں دوسے تين دن کا وقت درکار ہوتا ہے۔ 

یہاں سےگزرنےوالےافرادکو پُل کی مضبوطی پراتنا بھروسہ ہے کہ پیدل چلنےوالوں کےعلاوہ موٹرسائيکليں، گاڑياں اورمويشی بھی دريا کے اُس پاریہاں سے لے جاتےہيں۔

اگر یہ پل نہ ہو تودونوں جانے آنے اور جانے کےلیے30 کلو ميٹر کا سفر طے کرنا ہوتا۔دریا میں جب پانی زيادہ ہو تو 15 سے 16 کشتيوں کا پل بن جاتا ہے۔ پانی کم ہوتو چار سے پانچ کشتيوں کا پل بن جاتا ہے۔ماہی گيردريا پارکروانےکاکرايہ 20روپے ليتے ہيں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تھر میں تیندوے کو ہلاک کردیا گیا

تھر میں تیندوے کو ہلاک کردیا گیا

وزیرستان:4خواتین کے قتل کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں درج

وزیرستان:4خواتین کے قتل کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں درج