in

وزیرستان میں قبائلی عمائدین کے بعد اب خواتین نشانہ

وزیرستان میں قبائلی عمائدین کے بعد اب خواتین نشانہ

خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں نے گاڑی پر فائرنگ کرکے فلاحی تنظیم سے وابستہ 4 خواتین کو قتل اور ڈرائیور کو زخمی کردیا ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خواتین کو میرعلی بازار سے چند کلومیٹر دور واقع گاؤں ایپی میں صبح 9 بجے نشانہ بنایا گیا۔ چاروں خواتین ایک فلاحی تنظیم کے زیر اہتمام مقامی خواتین کو دستکاری اور سلائی کی تربیت دیتی تھیں۔

واقعہ کے بعد پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن لانچ کیا ہے مگر ابھی تک حملہ آوروں کا کوئی پتہ نہ چل سکا۔

طالبان دھڑوں کا اتحاد

جنوبی وزیرستان ایک وقت میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا گڑھ تصور کیا جاتا رہا ہے مگر آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے نتیجے میں تنظیم تتر بتر ہوگئی اور شدت پسندوں نے بھاگ کر افغانستان میں پناہ لی جہاں سے وہ کراس بارڈر حملے کرتے رہے۔

گزشتہ برس اگست میں طالبان کے مختلف دھڑے افغانستان میں دوبارہ یکجا ہوئے اور آپس کے اختلافات بھلاکر مفتی نور ولی محسود کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا جس کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ تحریک طالبان دوبارہ سر اٹھاسکتی ہے۔ وزیرستان کے لوگ مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں کہ ان کے علاقوں میں طالبان دوبارہ منظم ہورہے ہیں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

سماء ڈیجیٹل کی مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق کالعدم تحریک طالبان نے جنوری میں 17 حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جن میں 13 قبائلی اضلاع، 3 بلوچستان اور ایک راولپنڈی میں کیا گیا۔

اسی طرح فروری میں کالعدم تنظیم کی جانب سے فروری میں 13 حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی جو سارے خیبرپختونخوا میں ہوئے۔

خواتین کو کیوں نشانہ بنایا گیا



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روس: شیر کے گنگنانے کی ویڈیو وائرل

روس: شیر کے گنگنانے کی ویڈیو وائرل

منگولیا: سردی کےباعث 4لاکھ سے زائد مویشی ہلاک

منگولیا: سردی کےباعث 4لاکھ سے زائد مویشی ہلاک