in

پہلی تا 8 ویں جماعت یکم فروری سے کھولنے کا فیصلہ

پہلی تا 8 ویں جماعت یکم فروری سے کھولنے کا فیصلہ

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ آج اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس سال بغیر امتحان کسی بچے کو پاس نہیں کیا جائے گا۔ 9 ویں سے 12 ویں جماعتوں کے امتحانات ہونگے، جب کہ ان جماعتوں میں تدریسی عمل  رواں ماہ 18 جنوری سے  شروع ہو جائے گا۔

اسلام آباد میں نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی ) میں وزارت صحت کے حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ پہلی سے 8 ویں جماعت کے اسکولوں کو 25 جنوری کے بجائے اب یکم فروری سے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کے تعلیمی ادارے بھی یکم فروری سے کھلیں گے۔ اگلے ہفتے دوبارہ اجلاس میں زیادہ متاثر شہروں کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ 26نومبر کو اسکول بند کرنے سے کرونا کا گراف نیچے آیا، تاہم ملک میں کرونا کے کیسز اب بھی بڑھ رہے ہیں۔ ہمیں اس بات کا بھی اندازہ ہے کہ گزشتہ 8 سے 9 ماہ کے دوران  بچوں کی تعليم کا بہت نقصان ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال جب 15 ستمبر کو تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا تو اس وقت بیماری لگنے کا ریٹ 1 اعشاریہ 9 کے قریب تھا۔ نومبر کو تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا تو کرونا وائرس کی مثبت شرح 7 اعشاریہ 14 ہو گئی تھی، پچھلے 8 ماہ کے دوران تعلیم کا بہت نقصان ہوا ہے، ماہرین نے بتایا تھا کہ تعلیمی ادارے بند کرنے سے مثبت شرح کم ہوگی، کرونا وائرس کی مثبت شرح 7 اعشاریہ 14 سے کم ہوکر 6 اعشاریہ 10 ہو گئی ہے۔

شفقت محمود نے کہا کہ ابھی بھی کرونا وائرس کے کیسز بڑھ رہے ہیں، 9 ویں تا 12 ویں جماعت کے امتحانات ہونے ہیں، اس سال کسی بچے کو امتحان کے بغیر پاس نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگلے ہفتے اجلاس میں سارے ڈیٹا کا جائزہ لیں گے، دیکھیں گے کہ جن شہروں میں وائرس کا انفیکشن ریٹ بہت زیادہ ہے وہاں یکم فروری سے تعلیمی سلسلہ شروع کیا جائے یا نہیں،چھوٹی جماعتیں کھولنے سے پہلے شہروں میں انفیکشن ریٹ دیکھا جائے۔ اگر کسی شہر میں انفیکشن ریٹ زیادہ ہے تو ممکن ہے وہاں چھوٹی جماعتیں نہ کھولی جائیں اور جہاں کم ریٹ وہاں کھول دیں گے۔

دوسری جانب پرائیوٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے وفاق کے اعلانات ماننے سے انکار کردیا۔ پرائیوٹ اسکولز ایسو سی ایشن کے سربراہ کاشف مرزا کا کہنا تھا کہ ہر 4 سے 5 روز بعد اگر مگر کا سلسلہ بند ہونا چاہیئے، دن بھر میں کہیں تعلیمی اداروں کو ملک گیر لاک ڈاؤن نہیں مگر پاکستان کے تعلیمی ادارے گزشتہ سال سے بار بار بند ہو رہے ہیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

خورشید شاہ نےرضا ربانی کواپنی وکالت سے ہٹا دیا

خورشید شاہ نےرضا ربانی کواپنی وکالت سے ہٹا دیا

نيب کا احتساب کيوں نہيں ہوسکتا،سلیم مانڈوی والا

نيب کا احتساب کيوں نہيں ہوسکتا،سلیم مانڈوی والا