in

ہائیکورٹ حملہ کیس:وکلانےجوڈیشل آرگن ہاتھ میں لینےکی کوشش کی،حکمنامہ

ہائیکورٹ حملہ کیس:وکلانےجوڈیشل آرگن ہاتھ میں لینےکی کوشش کی،حکمنامہ

اسلام آباد ہائی کورٹ پر 8 فروری کو حملے میں ملوث 150 ذمہ دار وکلا کی نشاندہی کرلی گئی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 20 فروری بروز ہفتہ 5 صفحات پر مشتمل حملہ کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کیا۔ لارجر بینچ کی جانب سے مس کنڈکٹ کیس کے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وکلا نے حملے سے نظام عدل کو معطل رکھا۔

حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وکلا نے معزز جج کو سارا دن یرغمال بنائے رکھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے محتاط اسکروٹنی کے بعد 150 سے زائد وکلاء کی نشاندہی کی ہے۔

حکم نامے میں واضح طور پر کہا گیا کہ مشتعل وکلا نے بدنظمی پیدا کرکے ریاست کے “جوڈیشل آرگن” کا اختیار اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی۔ حملہ آور وکلا باری النظر میں مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں۔ فی الحال 150 میں سے 21 وکلا کو نوٹس جاری کئے جاتے ہیں۔ جیل میں قید وکلا کو سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ کے ذریعے نوٹس ارسال کئے جائیں۔

تحریری حکم نامے کے مطابق وکلا مس کنڈکٹ کارروائی میں عدالتی نوٹس کا 25 فروری تک جواب جمع کرائیں۔ لارجر بینچ کا 5 صفحات پر مشتمل حکمنامہ چیف جسسٹس اطہر من اللہ نے تحریر کیا، جب کہ معزز بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس لبنیٰ سلیم اور جسٹس میاں گل بھی شامل تھے۔

تحریری حکم نامے میں بتایا گیا کہ 8 فروری کو کچھ وکلاء نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بلاک پر حملہ کیا۔ وکلاء نے ہائیکورٹ پر حملے کے دوران چیف جسٹس بلاک میں توڑ پھوڑ کی۔ مشتعل وکلاء نے چیف جسٹس سمیت تمام ججز کو 4 گھنٹے تک محصور رکھا اور سائلین کو حصول انصاف سے دور رکھا گیا۔

تحریری حکم نامے میں بتایا گیا کہ پاکستان بار کونسل، اسلام آباد بار کونسل نے ہائی کورٹ پر حملے کی مذمت کی اور پاکستان بار کونسل نے حملے میں ملوث وکلاء کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے، جب کہ ہائی کورٹ حملے میں ملوث وکلاء کی نشاندہی بارز خود کریں۔

واضح رہے کہ رواں ماہ 7 فروری کی رات بروز اتوار سی ڈی اے کی جانب سے وکلا کے غیر قانونی چیمبرز گرائے گئے تھے جس پر وکلا نے اگلے روز پیر 8 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس دوران مشتعل ججز کی جانب سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کو یرغمال بھی بنایا گیا۔

واقعہ کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی سامنے آئی تھی۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیمبر میں گھسنے والے وکلا مسلسل چیختے چلاتے رہے۔ جسٹس اطہر من اللہ کو اپنی بات بھی مکمل کرنے کا موقع نہ دیا۔ دھمکی آمیز لہجے میں وکلا نے کہا کہ صرف اسی کو عزت دیں گے جو ہمیں عزت دے گا۔

واضح رہے کہ اسلام ہائی کورٹ پر حملے میں ملوث وکلا کے خلاف تھانہ رمنا سمیت دیگر پولیس اسٹیشنز میں مقدمات درج کیے گئے تھے۔ درج مقدمات میں وکلا کے خلاف کارسرکار میں مداخلت اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات شامل کی گئیں تھی۔ مقدمے میں انسداد دہشت گردی (اے ٹی اے) کی سیکشن 7 کو بھی شامل کیا گیا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

بالی ووڈ اداکار ’ ویویک اوبروئے ‘ موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ایسی حرکت کر دی کہ مقدمہ درج ہو گیا 

بالی ووڈ اداکار ’ ویویک اوبروئے ‘ موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ایسی حرکت کر دی کہ مقدمہ درج ہو گیا 

پی ایس ایل6 کیلئےپشاورزلمی کاآفیشل ترانہ ریلیز

پی ایس ایل6 کیلئےپشاورزلمی کاآفیشل ترانہ ریلیز