in

ہائیکورٹ حملہ: گرفتار 5 وکلاء کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

ہائیکورٹ حملہ: گرفتار 5 وکلاء کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ حملہ کیس میں گرفتار 5 وکلاء کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کرتے ہوئے انہیں 7 روزہ ریمانڈ پر جیل بھجنے کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد پولیس نے ہائی کورٹ حملہ کیس میں گرفتار وکیل اسد اللہ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج راجہ جواد عباس حسن کے روبرو پیش کیا، جب کہ پہلے سے گرفتار وکلاء سیکریٹری ڈسٹرکٹ بار لیاقت منظور کمبوہ، سردار نجم عباس، محمد عمر، ظفر کھوکھر اورخالد محمود کو جیل سے لا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت نے لیاقت منظور کمبوہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 2 مارچ، سردار نجم عباس اورمحمد عمر کے جوڈیشل ریمانڈ میں3 مارچ، جب کہ سابق صدر ڈسٹرکٹ بار ظفر کھوکھر اور خالد محمود کے جوڈیشل ریمانڈ میں 4 مارچ تک توسیع کردی۔

گرفتار دو وکلاء اسد اللہ اور راجہ زاہد محمود کو 26 فروری تک کیلئے جوڈیشل پر جیل بھجوانے کا حکم بھی دیا گیا۔

واضح رہے کہ اسلام ہائی کورٹ پر حملے میں ملوث وکلا کے خلاف تھانہ رمنا سمیت دیگر پولیس اسٹیشنز میں مقدمات درج کیے گئے تھے۔ درج مقدمات میں وکلا کے خلاف کارسرکار میں مداخلت اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات شامل کی گئیں تھی۔ مقدمے میں انسداد دہشت گردی (اے ٹی اے) کی سیکشن 7 کو بھی شامل کیا گیا۔

درج مقدمے میں لکھا گیا ہے کہ پیر 8 فروری کو سیکیورٹی انچارج کو وائر لیس پر اطلاع موصول ہوئی کہ ایف ایٹ کچہری سے وکلا بڑی تعداد میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب ہنگامہ آرائی کیلئے آرہے ہیں۔

ترجمان ہائیکورٹ کے مطابق وکلاء کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی اور لائسنس معطلی کیلئے بار کونسل کو ریفرنس بھيج رہے ہیں۔

 ایک ہفتہ قبل 7 فروری کی رات بروز اتوار سی ڈی اے کی جانب سے وکلا کے غیر قانونی چیمبرز گرائے گئے تھے جس پر وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس دوران مشتعل ججز کی جانب سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کو یرغمال بھی بنایا گیا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

میں بھی شادی کروں گا،وائرل ویڈیوکے پیچھےکیارازہے؟

میں بھی شادی کروں گا،وائرل ویڈیوکے پیچھےکیارازہے؟

گھی کی فی کلو قیمت میں 30روپے تک اضافہ

گھی کی فی کلو قیمت میں 30روپے تک اضافہ