in

خصوصی رپورٹ: کراچی کے نوجوان ٹارگٹ کلرز کیسے بنے

خصوصی رپورٹ: کراچی کے نوجوان ٹارگٹ کلرز کیسے بنے

تاریخ دانوں، صحافیوں کے خیالات سنیں

کراچی کے پڑھے لکھے نوجوان ٹارگٹ کلر کیسے بنے۔ کیا چیز تھی جس نے انہیں اپنے کتابیں چھوڑ کر پستول اٹھانے پر مجور کیا۔ کیا بات ہوئی کہ انہوں نے ڈگریوں کے باوجود لوگوں پر تھرڈ ڈگری کیا۔ ایسا کیا ہوا کہ وہ پڑھائی کے لئے ٹارچ چلانے کے بجائے ٹارچل سیل چلانے لگے۔

کراچی میں 80 فیصد آبادی پڑھی لکھی ہوا کرتی تھی۔ ہر طرف سکون تھا، علم و آدب کی محفلیں ہوتی تھیں، غیرملکیوں کی بڑی تعداد یہاں بازاروں میں خریداری کرتی نظر آتی تھی، سو سے زائد سنیما میں فلمز دیکھنے والوں کی لائنیں لگی ہوتی تھیں۔ تاریخ دان عارف حسن، محمود شام اور شکیل عادل زادہ کو اب بھی پرانا کراچی گلی گلی یاد ہے۔

شکیل عادل زادہ کا کہنا ہے کہ بہت خوبصورت شہر تھا، بڑا پرسکون۔ اچھا عجب بات ہے، بہت دلچسپ بات ہے کہ یہاں موسم جو تھا وہ بھی بڑا نرم تھا یعنی یہاں اتنی گرمی نہیں پڑتی تھی۔

عارف حسن نے بتایا کہ کراچی ایلیٹ کا شہر تھا۔غریبوں کا شہر تو نہیں تھا لیکن غریب بہت رہتے تھے۔ سینیما بہت تھے کراچی میں 1978 سے 1979 تک کوئی 136 سینیما تھے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

جنوری 2021ء: سوزوکی کاروں کی فروخت میں 62فیصد اضافہ

جنوری 2021ء: سوزوکی کاروں کی فروخت میں 62فیصد اضافہ

متحدہ عرب امارات لاہور میں ویزا سینٹر کھولے گا

متحدہ عرب امارات لاہور میں ویزا سینٹر کھولے گا