in

وکلارہنماؤں کی عدالت میں توڑ پھوڑ کی مذمت سے گریز

وکلارہنماؤں کی عدالت میں توڑ پھوڑ کی مذمت سے گریز

اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے وکلا کی جانب سے جسٹس اطہرمن اللہ کے چیمبر میں گھسنے اور توڑ پھوڑ کی مذمت کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو کچھ ہوا، وہ ’ردعمل‘ تھا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیر کو وکلاء کے ایک جتھے نے زبردستی چیف جسٹس اطہرمن اللہ کے چیمبر میں گھس کر ان سے تلخ کلامی کی۔ انہیں چیمبر میں محصور کیے رکھا اور عدالت میں توڑ پھوڑ بھی کی۔

واقعہ کے بعد رات کو سماء ٹی وی کے ٹاک شوز میں وکلا رہنما شریک ہوئے مگر انہوں نے وکلا کو قصور وار قرار دینے اور اس پرتشدد واقعہ کی مذمت کرنے سے گریز کرتے ہوئے جواز پیش کیا کہ گزشتہ شب وکلا کے چیمبر گرائے گئے۔ ان پر تشدد اور گرفتار کیا گیا۔ اس لیے وکلا نے ردعمل کے طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا رخ کیا۔

سی ڈی اے کے مطابق اسلام آباد کے علاقہ ایف ایٹ میں واقع ضلعی عدالت کے اطراف وکلا کے چیمبرز سرکاری اراضی پر قبضہ کرکے تعمیر کیے گئے ہیں اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر ان کو گرایا جارہا ہے مگر وکلا اپنے چیمبرز گرانے کے خلاف ہیں۔

ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر فرید کیف نے سماء ٹی وی کے پروگرام 7 سے 8 میں کہا کہ جب وہ صبح آئے تو کچہری میں وکلا کے چیمبرز درہم برہم تھے۔ وکلا کے پاس ہائیکورٹ کا فورم ہے، اس لئے ہم احتجاج کرنے وہاں چلے گئے۔

فرید کیف نے سے جب پوچھا گیا کہ دو تین لوگ جاکر چیف جسٹس سے بات کرسکتے تھے۔ ہجوم کو لے جانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ انہوں نے جواب دیا کہ جب 300 پولیس اہلکار اور 300 پراپرٹی ڈیلرز و غنڈہ عناصر ہوں۔ وہ رات کو کچہری میں آکر سارے چیمبرز برباد کرجائیں تو اس کے بعد بات چیت کا وقت کہاں ہوتا ہے کہ ایک دو بندہ جاکر بات کرے۔

فرید کیف نے تشدد کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب لوگوں کے اتنے نقصانات ہوئے، ان کے چیمبر گراکر مقدمات کا سارا ریکارڈ ضائع کیا گیا۔ ان کی بے عزتی ہوئی اور مارا پیٹا گیا تو ردعمل میں ٹیبل ٹاک نہیں ہوتا۔

اس کے بعد سماء ٹی وی کے ٹاک شو ’آواز‘ میں میزبان علی حیدر نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے صدر حسیب چوہدری کو مدعو کرکے پوچھا کہ کیا وہ اس واقعہ کی مذمت کریں گے۔ حسیب چوہدری نے مذمت کرنے سے گریز کرتے ہوئے جواب دیا کہ ہر معاملے کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک پہلو کا آپ ذکر کر رہے ہیں اور دوسرا پہلو وہ ہے جو رات کو پیش آیا۔ اگر آپ دونوں پہلووں کو سامنے رکھیں گے تو بات سمجھنے میں آسانی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ معاملہ رات کو شروع ہوا جب چیمبر گرائے گئے، وکلا کو زخمی کیا گیا جبکہ 10 وکلا کو اغوا کیا گیا اور کوئی پتہ نہیں چلا کہ ان کو کہاں رکھا گیا ہے۔ پھر جب اس کا ردعمل آیا (یعنی اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلوہ) تو آپ اس کا ذکر رہے ہیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کے ایم سی نے گجر نالے سے تجاوزات کا خاتمہ شروع کردیا

کے ایم سی نے گجر نالے سے تجاوزات کا خاتمہ شروع کردیا

سعودی عرب: کروناکیسز پر 10مساجد سیل، کرفیو کا خدشہ

سعودی عرب: کروناکیسز پر 10مساجد سیل، کرفیو کا خدشہ