in

سندھ: 15023 ہیلتھ ورکرز کو کرونا ویکسین لگا دی گئیں

سندھ: 15023 ہیلتھ ورکرز کو کرونا ویکسین لگا دی گئیں

سندھ حکومت کی جانب سے صوبے بھر میں گزشتہ 4 روز کے دوران 15023 ہیلتھ ورکرز کو کرونا سے بچاؤ کے ٹیکے لگا دیئے گئے ہیں۔

ملک بھر کی طرح سندھ میں بھی انسدادِ کرونا مہم جاری ہے۔ اس سلسلے میں مرحلہ وار لوگوں کو بچاؤ کے ٹیکے لگائے جائیں گے۔ پہلے مرحلے میں ہیلتھ ورکرز کو ویکسین لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔

ترجمان محکمہ صحت سندھ کے مطابق کراچی کے خالق دینا ہال، جناح اسپتال، اوجھا اسپتال سمیت کئی مراکز میں ہیلتھ کیئر ورکرز کو ویکسین لگائی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ چین کی جانب پاکستان کو یکم فروری کو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین بھیجی گئی۔ پاکستان فضائیہ کا خصوصی طیارہ چین سے ویکسین لے کر پیر یکم فروری کی صبح نور خان ایئربیس پہنچا، جہاں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان موجود تھے۔

کرونا ویکسین کی رجسٹریشن اور اس کے انتظام کی نگرانی کے لیے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے آن لائن پورٹل نیشنل ایمونائزیشن مینجمنٹ سسٹم (این آئی ایم ایس) بنایا گیا ہے۔

ویکسین لگانے کے لیے ملک میں اضلاع اور تحصیل کی سطح پر متعدد ویکسین مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں جا کر کووڈ 19 سے بچاؤ کی ویکسین لگوائی جا سکتی ہے۔

پہلے مرحلے میں صحت کے عملے کو ویکسین لگائی جائے گی۔ دوسرے مرحلے میں ساٹھ سال یا اس سے بڑی عمر کے افراد کو یہ ویکسین لگائی جائے گی۔ ویکسین کی فراہمی کے قومی ادارے (ای پی آئی) کے حکام کا کہنا ہے کہ 60 سال اور اسے بڑی عمر کے افراد کا ڈیٹا شہریوں کی رجسٹریشن کے قومی ادارے نادرا سے حاصل کر لیا گیا ہے۔

تیسرے مرحلے میں اٹھارہ سال اور اس سے بڑی عمر کے افراد کو ویکسین فراہم کی جائے گی۔ حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر افراد کو ویکسین نہیں لگائی جائے گی۔

چین کی سرکاری دوا ساز کمپنی کی جانب سے بنائی گئی کرونا ویکسین سائنو فارم کو محفوظ رکھنے کے لیے 2 سے 8 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت درکار ہے۔ لہٰذا ہر ویکسین سینٹر پر ویکسین کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک خاص ‘آئی ایل آر’ ریفریجریٹر رکھا گیا ہے، جہاں اس ویکسین کو حفاظت سے رکھا جائے گا۔

عموماً ویکسین چھوٹی بوتلوں ‘وائل’ میں دستیاب ہوتی ہے لیکن سائنو فارم ویکسین کی ہر خوراک ایک سرنج میں بھری ہوئی آئے گی، جسے لگانے کے بعد توڑ کر پھینک دیا جائے گا تاکہ یہ سرنج دوبارہ استعمال نہ کی جا سکے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کےٹو:محمدعلی سدپارہ اوردیگرکی تلاش، سرچ آپریشن پھرشروع

کےٹو:محمدعلی سدپارہ اوردیگرکی تلاش، سرچ آپریشن پھرشروع

خیبرپختونخوا میں کرونا سے ڈاکٹر انتقال کرگئیں

خیبرپختونخوا میں کرونا سے ڈاکٹر انتقال کرگئیں