in

چترال: روسی شہری کا مارخور کا شکار

چترال: روسی شہری کا مارخور کا شکار

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں روس سے تعلق رکھنے والے شکاری نے 38 انچ سائز کے 8 سالہ کشمیر مارخور کا شکار کیا۔

روس سے تعلق رکھنے والے شکاری اہوجینی سخاروف نے 38 انچ سائز کے 8 سالہ کشمیر مارخور کا شکار کیا۔ محکمہ وائلڈ لائف خیبر پختونخوا کو روسی شکاری کی جانب سے اس ٹرافی شکار کیلئے 64 ہزار امریکی ڈالر ادا کیے گئے تھے۔

یہ اس سیزن کا تیسرا اور آخری ٹرافی شکار ہے، جب کہ گزشتہ ماہ 2 امریکیوں نے توشی شاشا میں شکار کیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی شہری ایڈور جوزیف نے چترال میں بڑے سینگوں والے مارخور کا شکار کیا تھا۔ اس ٹرافی ہنٹنگ کیلئے انہوں نے 88 ہزار ڈالر ادا کیے تھے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں مارخور کا شکار کرنے کیلئے مختلف ممالک کے شکاری بڈنگ میں حصہ لیتے ہیں، جو شکاری زیادہ پیسے دیتے ہیں، ان کو اشکار کی اجازت مل جاتی ہے۔

مارخور کے شکار سے حاصل ہونے والے پیسوں سے چترال میں عوام کی فلاح و بہبود اور مارخور کی سیکیورٹی پر خرچ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ تمام عمل محکمہ وائلڈ لائف کی زیر نگرانی کیا جاتا ہے۔ اس شکار کو ٹرافی کا نام دیا جاتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ہر سال محکمہ وائلڈ صوبائی حکومت کی ہدایت پر ایک شکاری کو بار شکار کرنے کی اجازت دیتی ہے، جس کیلئے ایک کروڑ سے زائد پیسے دیئے جاتے ہیں۔ شکاری کو صرف ایک مارخور کے شکار کی اجازت ہوتی ہے۔

قبل ازیں گزشتہ سال 2020 میں چترال میں محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے کامیاب ٹرافی ہنٹنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں امریکی شہری نے مہنگے ترین جانور کا شکار کیا۔ اس کیلئے 1 کروڑ 30 لاکھ روپے میں مارخور کے شکار کا پرمٹ حاصل کیا گیا۔

امریکی شہری نے چترال کے علاقہ توشی شاشہ میں مارخور کا شکار کیا۔ جوزف کے مطابق قیمتی جانور مارخور کے شکار کا خواب بچپن سے تھا جو اب پورا ہوا۔ ہر سال وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ لاکھوں روپے میں ٹرافی ہنٹنگ کا پرمٹ جاری کرتا ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

جاپان:ماں کی لاش10برس تک فریج میں رکھنےوالی بیٹی گرفتار

جاپان:ماں کی لاش10برس تک فریج میں رکھنےوالی بیٹی گرفتار

پشاور: بیکری میں دھماکا، ایک شخص زخمی

پشاور: بیکری میں دھماکا، ایک شخص زخمی