in

خواجہ آصف کوجیل میں سہولیات دینےسے متعلق درخواست پرتحریری فیصلہ جاری

خواجہ آصف کوجیل میں سہولیات دینےسے متعلق درخواست پرتحریری فیصلہ جاری

احتساب عدالت نے لیگی رہنما خواجہ آصف کو جیل میں سہولیات دینے سے متعلق درخواست پرتحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئےگھرکا کھانا،ادویات اور میٹریس فراہم کرنےکا حکم دے ديا ہے۔

ہفتہ 30 جنوری کواحتساب عدالت کےجج جواد الحسن نے3 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔عدالت نے تحریری فیصلے میں سپرئٹنڈنٹ جیل کوحکم دیا کہ خواجہ آصف کوسہولیات فراہم کریں۔

خواجہ آصف کےوکيل کےمطابق خواجہ آصف ضعیف اورمختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں اوران کی عمر70 سال ہےجبکہ آنکھوں کا معائنہ درکار ہے۔ درخواست میں خواجہ آصف نےگھرکےکھانے،میڈیکل سہولیات اورگرم ہیٹرکی استدعا کی تھی۔عدالت نےیہ بھی حکم دیا کہ خواجہ آصف کےآنکھوں کے معائنہ کےلیےسپریڈنٹ جیل انتظامات کریں۔

درخواست میں کہا گیا تھاکہ خواجہ آصف سابق وفاقی وزيراورموجودہ رکن قومی اسمبلی ہیں جبکہ خواجہ آصف نےایل ایل بی کررکھا ہےاورانڈرٹرائل ملزم ہیں۔

خواجہ آصف کی جیل میں بی کلاس کی سہولت کیلئےدرخواست

لاہور کی احتساب عدالت نے22 جنوری کوخواجہ آصف کےجسمانی ریمانڈ کی درخواست مستردکرتےہوئےانہیں جوڈیشل ریمانڈپر4 فروری تک جيل بھيجنےکاحکم دیا تھا۔

واضح رہےکہ نیب نے 29 دسمبر2020 کو آمدن سے زائد اثاثوں کے کیسز میں خواجہ آصف کو اسلام آباد سے گرفتار کیا تھا۔

مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماء اور سابق وزیر دفاع خواجہ آصف کو عام انتخابات سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے غیر ملکی اقامہ رکھنے پر انہیں نااہل قرار دیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دیدی تھی۔

خواجہ آصف پرعوامی عہدوں سے اثاثے بنانے اور جعلی ذرائع آمدن بتانے سمیت 4 الزامات ہیں۔ نیب کے مطابق خواجہ آصف نے اثاثوں کے ذرائع آمدن اور اثاثوں کی دوسروں کے نام منتقلی کو چھپایا۔ خواجہ آصف کے 1991 میں 51 لاکھ روپے کے اثاثے تھے جوکہ 2018 تک 221 ملین روپےکے ہوگئے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ہماری جنگ حکومت کیساتھ ہے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ نہیں مولانا فضل الرحمان کا نیا بیان سامنے آگیا

ہماری جنگ حکومت کیساتھ ہے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ نہیں مولانا فضل الرحمان کا نیا بیان سامنے آگیا

بائیکیا کے لاکھوں صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے کا خطرہ

بائیکیا کے لاکھوں صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے کا خطرہ