in

لاہورہائیکورٹ کی وفاقی حکومت کوکوہ نورہیرےسےمتعلق دستاویزجمع کرانےکی ہدایت

لاہورہائیکورٹ کی وفاقی حکومت کوکوہ نورہیرےسےمتعلق دستاویزجمع کرانےکی ہدایت

لاہور ہائی کورٹ نےوفاقی حکومت کو کوہ نور ہیرے سے متعلق دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ میں جمعہ کو برطانیہ سے کوہ نور ہیرے کی واپسی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

درخواست گزار بیرسٹرجاوید اقبال جعفری نے بتایا کہ اس ہیرے کی واپسی کے لیے زمانہ طالب علمی سے جدوجہد کررہا ہوں۔جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ یہ ہیرا کہاں سے برطانیہ لے جایا گیا۔ بیرسٹرجاوید اقبال جعفری نے بتایا کہ یہ ہیرا تخت لاہور سے لے جایا گیا تھا۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 1849 کے معاہدے کے تحت دلیپ سنگھ نے یہ ہیرا ملکہ برطانیہ کو دیا تھا اور 1858 میں ہیرا دینے کے معاہدے کو قانونی شکل دی گئی تھی۔

عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل کو ہدایت کی کہ آپ اس حوالے سے دستاویزات اگلی تاریخ پرعدالت میں جمع کرائیں۔ بیرسٹرجاوید اقبال جعفری نے کہا کہ ہیرے کی حوالگی کا یہ معاہدہ تواب غیر قانونی ہوچکا ہے اور ایسٹ انڈیا کمپنی کو تخت لاہور سے کوئی معاہدہ کرنے کا اختیار ہی نہیں تھا۔1849 میں مہاراجہ دلیپ سنگھ کو لاہور سے دہلی لے گئے تھے۔ ملکہ برطانیہ نے جب کوہ نور لیا تب وہ قیصر ہند نہیں تھیں۔

درخواست گزارنے عدالت میں دعویٰ کیا کہ انڈین لابی مجھے قتل کرنا چاہتی ہے اور اس لیےمیں اس کیس میں جلدی کررہا ہوں۔

عدالت نے آئندہ سماعت عدالتی تعطیلات کے بعد رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔

لاہور ہائیکورٹ نے کوہ نور ہیرے کی برطانیہ سے واپسی سے متعلق دائر درخواست پر دلائل کے لئے وکلاء کو 16 جولائی کو طلب کیا تھا۔ پچھلی سماعت میں درخواست گزار نےعدالت کو بتایا کہ معلوم ہوا ہے کہ بھارت بھی اس ہیرے کی واپسی کے لیے کوششیں کررہا ہے، میں اگرمرگیا تو یہ کیس بھی ختم ہوجائےگا۔درخواست گزار نےعدالت سے استدعا کی کہ میرے دلائل کے لیے یہ کیس جمعہ کے لیے مقرر کردیں۔

اٹھائیس جون کو لاہور ہائیکورٹ نے کوہ نور ہیرے کی پاکستان واپسی کیلئے درخواست سماعت کیلئے مقرر کی تھی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ برطانیہ نے یہ ہیرا مہاراجہ رنجیت سنگھ کے پوتے دلیپ سنگھ سے چھینا تھا اور اسے برطانیہ لے جایا گیا تھا۔ کوہِ نور پنجاب صوبے کا ثقافتی ورثہ ہے اور اس کے شہری اس کے اصل مالک ہیں۔درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ کوہ نور ہیرا برطانوی حکومت سے واپس لینے اور پاکستان لانے کا حکم دیا جائے۔

اس سے قبل دسمبر 2015 میں لاہورہائیکورٹ نے برطانیہ سے کوہ نور ہیرا واپس لانے کی درخواست مسترد کردی تھی۔ایڈووکیٹ جاوید اقبال جعفری کی جانب سے دائرکردہ درخواست مسترد کرتے ہوئے عدالت کا کہنا تھا کہ کسی دوسرے ملک کے خلاف سماعت نہیں کر سکتے۔ایڈووکیٹ جاوید اقبال جعفری نے کوہ نورہیرے کی واپسی کیلئے دائردرخواست میں ملکہ برطانیہ کو فریق بناتے ہوئے عدالت سے استدعا کی تھی کہ کوہ نور ہیرا جو کہ اب ٹاور آف لندن میں نمائش کیلئے رکھا گیا ہے اسے واپس پاکستان لانے کے احکامات دیے جائیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

اپرکوہستان میں چینی شہریوں کی موت، عمران خان کاچین کےہم منصب سےرابطہ

اپرکوہستان میں چینی شہریوں کی موت، عمران خان کاچین کےہم منصب سےرابطہ

Khi rain 2021

کراچی میں آج بھی بارش کا امکان