in

طالبان حمایت ریلی:انتظامیہ اورصوبائی وزیرداخلہ کا متضاد موقف

طالبان حمایت ریلی:انتظامیہ اورصوبائی وزیرداخلہ کا متضاد موقف

ایک طرف تو کوئٹہ انتظامیہ نے شہر میں افغان طالبان کی حمایت میں ریلی نکالنے پر پولیس کو شرکاء کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے جبکہ دوسری جانب وزیر داخلہ بلوچستان نے اس ریلی کے انعقاد کو شرکاء کا حق قرار دے دیا ہے۔
گزشتہ روز کوئٹہ میں سریاب روڈ سے گوالمنڈی چوک تک افغان طالبان کے حق میں ریلی نکالی گئی تھی جس میں شرکاء نے امارت اسلامی افغانستان کے پرچم بھی اٹھائے ہوئے تھے جس پر کوئٹہ انتظامیہ نے کارروائی کا فیصلہ کیا تھا۔
تاہم سماء کے پروگرام سات سے آٹھ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرداخہ بلوچستان ضیاءاللہ لانگو کا کہنا ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاک افغان بارڈر کے پاکستانی علاقوں میں طالبان کے حمایتی موجود ہیں اور جس طرح کشمیریوں یا فلسطینوں کےحق میں ریلیاں نکالی جاتی ہیں اسی طرح لوگوں نے طالبان کے حق میں ریلی نکالی۔
ضیاءاللہ لانگو کا کہنا تھا کہ ریلی نکالنا سب کا جہموری حق ہے، یہ کوئی غیرجمہوری عمل نہیں اور نہ ہی ریلی میں کوئی غیرقانونی یا ملک کے خلاف کوئی بات نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پاک افغان بارڈر پر رہنے والے پاکستانی افغانستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں اور انہی لوگوں نے طالبان حکومت کے آنے پر اپنی خوشی کا ظہار کیا۔
ضیاءاللہ لانگو کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تو سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی طالبان کے حق میں باتیں کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ کل خود بھی چمن گئے تھے، افغان سرحد کا کنٹرول طالبان کے ہاتھ آچکا ہے لیکن انہیں وہاں پاکستانی کرنسی ملنے کی اطلاعات کا علم نہیں۔
ضیاءاللہ لانگو کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ناراض بلوچوں سے بات چیت کے لیے شاہ زین بگٹی کو نمائندہ مقرر کردیا ہے اور ان کی کوئٹہ میں لوگوں سے ملاقاتیں بھی شروع ہوچکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے پیچھے وہی ملک دشمن قوتیں ہیں جو پچھلے 20 سال سے ہمارے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال کررہی ہیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

سی ایس ایس کی تیاری کے لیے لاہور آئی لڑکی نے خود کشی کرلی خودکشی سے قبل لکھا گیا خط بھی سامنے آگیا

سی ایس ایس کی تیاری کے لیے لاہور آئی لڑکی نے خود کشی کرلی خودکشی سے قبل لکھا گیا خط بھی سامنے آگیا

Senate-Elections

آزادکشمیر انتخابات: کیا ہونے جا رہا ہے؟