in

کیا مستقبل میں سوات گرم علاقہ بن جائے گا؟

کیا مستقبل میں سوات گرم علاقہ بن جائے گا؟

انہتر سالہ خلیل الرحمٰن سن 1980 میں مینگورہ شفٹ ہوئے جہاں وہ شہر میں برفباری کا بھی مشاہدہ کرتے اور موسم گرما میں بھی کڑاکے کی سردی محسوس کرتے لیکن تقریباً 20 برس سے انہیں موسم میں ایک بتدریج تبدیلی محسوس ہورہی ہے اور اب وہ سوات کے صدر مقام کے علاوہ کالام و ملم جبہ تک میں پشاور جیسی گرمی کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
خلیل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ وہ 41 برس قبل سوات کی تحصیل مٹہ سے مینگورہ منتقل ہوئے تو اس وقت انہیں وہاں ملم جبہ سے بھی زیادہ سردی لگتی تھی لیکن پھر ماحولیاتی نظام نے ایک عجیب کروٹ لی اور خصوصاً سن 2008 کے بعد سے جنگلات کی کٹائی کے نتیجے میں بڑھتی آلودگی کے باعث پوری وادی میں گرمی کی شدت میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا اور اب تو یوں لگتا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب موسم گرما میں سوات کے ان سرد ترین و بالائی حصوں میں بھی ملک کے دیگر گرم شہروں کی طرح رہنا محال ہوجائے گا۔
وادی سوات کے بزرگ شہری کا یہ مشاہدہ بالکل درست ہے کیوں کہ ضلعے کے مختلف علاقوں میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی کا سلسلہ ایک عرصے سے زور و شور سے جاری ہے جبکہ اتنظامیہ عوام کے شدید احتجاج کے باوجود جنگلات اجاڑنے والے عناصر کے خلاف مئوثر کارروائی کرنے سے قاصر ہے۔ جنگلات کی یہ اندھا دھند کٹائی ایک طرف ماحولیاتی نظام کو درہم برہم کر رہی ہے اور دوسری جانب ملک کے سرد ترین علاقے سوات کی موسمیاتی تبدیلی کا باعث بن رہی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس خوبصورت وادی کا درجہ حرارت بسا اوقات اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ صوبہ خیبرپختونخواہ کے کیپیٹل شہر پشاور کے برابر جا پہنچتا ہے۔
مقامی صحافیوں اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سوات شائد ہی کوئی علاقہ ایسا ہوگا جہاں جنگلات مکمل طور پر محفوظ ہوں لیکن خصوصاً کالام ،مالم جبہ ،مٹہ ،میاندم اور بحرین کے علاقوں میں تو خاص طور پر جنگلات کی کٹائی بڑے پیمانے پر جاری ہے۔

سوات کے ایک سماجی کارکن فضل خالق نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سوات کی تو خوبصورتی ہی ان درختوں کی مرہون منت ہے لیکن حالیہ برسوں میں خصوصاً زیریں سوات میں جس رفتار سے جنگلات کو کاٹا گیا ہے اس سے ان علاقوں کی خوبصورتی میں کمی اور گندگی و آلودگی میں اضافہ ہوا ہے۔
فضل خالق نے کہا کہ سوات کا موسم بھی اب پہلے جیسا نہیں رہا اور رفتہ رفتہ درختوں سے محروم کیے جانے کے باعث اس کا درجہ حرارت بھی قدرے بڑھ رہا ہے جبکہ ان متاثرہ علاقوں میں زیر زمین پانی کا لیول بھی بہت نیچے چلاگیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انتہائی با اثر ٹمبر مافیا محکمہ جنگلات کے ملازمین و افسران کی ملی بھگت سے سوات کے جنگلات اجاڑ رہی ہے جس کے باعث دیار،چیڑ، بیاڑ اور شیشم کے قیمتی درخت ختم ہوتے جا رہے ہیں۔
سماجی کارکن نے کہا کہ موجودہ حکومت کا بلین ٹری سونامی منصوبہ ایک احسن اقدام ہے لیکن اس کے ساتھ ہی پہلے سے موجود جنگلات کی حفاظت بھی حکومت کا فرض ہے جس کی انجام دہی میں وہ ناکام دکھائی دیتی ہے۔
فضل خالق نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک ٹریکنگ گروپ بھی بنایا ہوا ہے جو تقریباً ہر ماہ اپنی مہم پر نکلتا ہے۔ انہوں نے بڑے دکھ کے ساتھ کہا کہ ٹریکنگ کے دوران ہم جہاں جاتے ہیں وہاں سینکڑوں درختوں کی کٹائی ہوچکی ہوتی ہے اور اگر ہم متعلقہ محکمے کے افراد سے رابطہ کرتے ہیں تو وہ اس سے بالکل بےخبر ہوتے ہیں۔ فضل خالق کا دعویٰ تھا کہ محکمے کی اکثریت ان لوگوں سے ملی ہوئی ہے اور اسے افرادی قوت کی بھی کمی کا سامنا ہے اس لیے محمکے میں نئی بھرتیوں کی بھی ضرورت ہے۔
فضل خالق کا کہنا ہے کہ جنگلات کے تحفظ کےلیے مقامی لوگوں کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے، مقامی لوگوں پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جن میں سماجی کارکن اور علاقہ عمائدین شامل ہوں۔ ان کے مطابق اگر جنگلات کی کٹائی اسی رفتار سے جاری رہی تو ماحولیاتی تبدیلی کے برے اثرات علاقے بلکہ پورے ملک پر مرتب ہوسکتے ہیں لہٰذا ان تمام برے اثرات سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اور مخلصانہ کوششوں کی ضرورت ہے لیکن جب تک سیاسی لوگ اور ٹمبر مافیا اور اس میں ملوث سرکاری افسران کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی اس فعل کی روک تھام ناممکن ہے۔

ایک اور سماجی کارکن امجد علی سحاب جو ہائکنگ اور ٹریکنگ کے شوقین بھی ہے کا کہنا ہے کہ جہاں بھی درخت ہیں ان کوکاٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اکثر جب ہم ٹریکنگ پرجاتے ہیں تو گھنے جنگلات کے بیچ میں لوگوں نے درخٹ کاٹے ہوئے ہوتے ہیں اور ہم تصاویر بناکر انہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے متعلقہ محکموں کو توجہ دلانےکی کوشش کرتے ہیں۔
امجد علی نے کہا کہ حد تو یہ ہے کہ لوگ اب جنگلات کے ساتھ سڑک کے کناروں پر موجود درختوں کو بھی کاٹ رہے ہیں اور اس سارے معاملے میں سب سے بڑی کوتاہی متعلقہ محکمے کی ہے۔ ان کے مطابق جنگلات کی کٹائی میں طاقتور ٹمبر مافیا ملوث ہیں جو ان کے خلاف اواز اٹھانے والے سماجی کارکنوں اور صحافیوں کو بھی دھمکاتے رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹمبر مافیا کے سرپرست مقامی سیاستدان ہیں جن کے وجہ سے جنگلات برباد ہورہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگلات سوات کاحسن اور زمین کے پھیپھڑے ہیں اگر ان کی اسی طرح بے دریغ کٹائی جاری رہی تو نہ صرف سوات کاحسن مانند پڑ جائے گا بلکہ آلودگی میں بھی اضافہ ہوگا۔ ان کا خیال ہے کہ جس رفتار سے درختوں کی کٹائی ہورہی ہے اگلے 10 سال تک سوات کا موسم ایسا خوشگوار نہیں رہے گا جیسا اب ہے۔

محکمہ جنگلات کیا کر رہا ہے؟
ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر وسیم خان نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا سوات میں 60 ہزار ہیکٹر ایریا کے لیے محکمہ جنگلات کے پاس صرف 80 ملازمین ہیں اور ایک فرد کو3 ہزار ہیکٹر علاقہ دیکھنا پڑتا ہے جبکہ اصولاً 500 ہیکٹر پر ایک ملازم ہونا چاہیے تاہم ایک اچھی بات یہ ہےکہ حکومت نے ہمیں نگہبان کے نام سے رضاکار فراہم کیے ہیں اور وہ بھی ہمیں درختوں کی کٹائی کے بارے میں اطلاع فراہم کرتے ہیں جس کی روشنی میں ہم کارروائی کرتے ہیں۔
وسیم خان کا کہنا ہے کہ ایک سال میں ہم نے 213 افراد کے خلاف کارروائی کی ہے جن سے جرمانے کے مدمیں 58 لاکھ روپے وصول کیے گئے جبکہ اس کے علاوہ کاٹے گئے درخت بھی بحق سرکار ضبط کیے گئے۔
ڈسٹرکٹ فاریسٹ کے مطابق جنگلات کے لیے مختص علاقے کے علاوہ لوگوں کی ذاتی زمیںیں بھی ہیں جن پر موجود جنگلات کی کٹائی ہوتی ہے مگر وہ ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں آتا کیوں کہ وہ لوگ اپنی گھریلو ضروریات کے لیے وہاں سے درخت کاٹتے ہیں۔
وسیم خان کا کہنا تھا کہ جنگلات سے مقامی لوگوں کو ضرورت کے مطابق درخت الاٹ کیے جاتےہیں جن سے وہ اپنی تعمیراتی ضرورت پوری کرنے کے علاوہ اس لکڑی کو جلانے اور دیگر کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق سوات میں اس سال اب تک 10 لاکھ سے زائد درخت لگائے جاچکے ہیں جن میں جنگلات کےلیے مختص جگہوں کے علاوہ مقامی لوگوں کی ذاتی زمینوں پر بھی شجرکاری ہورہی ہے، نئے درختوں کے لگنے سے لوگوں کی ضرورتیں ذاتی جائیدادوں سے پوری ہوں گی اور جنگلات پر سے دباؤ کم ہوگا۔
وسیم خان کے مطابق محکہ جنگلات نے کافی حد تک درختوں کی کٹائی پر قابو پالیا ہے مگر آبادی میں اضافے کے باعث لوگوں کی ضرویات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔
جنگلات کی کٹائی میں محکمے کے ملازمین کے ملوث ہونے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ادارے کے 48 ملازمین کے خلاف ایکشن لیاگیا جس میں بارہ تیرہ ملازمین کو باقاعدہ سزائیں بھی ہوئی ہیں جب کہ کچھ افراد کے خلاف انکوائری چل رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے میں محکمے کے جو افراد ملوث ہیں ان سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

پاکستان اور موسمیاتی تبدیلی
پاکستان دنیا میں موسمیاتی تبدیلی کےمضر اثرات سے سب سےزیادہ متاثرہ 10 ممالک میں شامل ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کے 4 فیصد سے زائد حصے پر جنگلات ہیں جبکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ملک کے 25 فیصد رقبے پر جنگلات ہونے چاہییں۔ اس لیے حکومت کو نئے درخت اگانے کے ساتھ موجودہ جنگلات کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے مضراثرات سے بچا جاسکے۔ اس چیلنج سے نمٹنے میں کوئی بھی غفلت آئندہ نسلوں کو سنگین خطرے سے دوچار کر سکتی ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کنٹرولرامتحانات ملاکنڈبورڈعہدےسے فارغ

کنٹرولرامتحانات ملاکنڈبورڈعہدےسے فارغ

شوہر سے پیار ملا تو پتہ چلا کہ جب کوئی لڑکا آپ کی کیئر کرتا ہے تو کیسے کرتا ہے کامیڈین بھارتی نے زندگی کی کہانی شیئر کردی

شوہر سے پیار ملا تو پتہ چلا کہ جب کوئی لڑکا آپ کی کیئر کرتا ہے تو کیسے کرتا ہے کامیڈین بھارتی نے زندگی کی کہانی شیئر کردی