in

مفتی تقی عثمانی حملہ کیس:ملزم اپنے پاس چاقو کیوں رکھتا تھا؟

مفتی تقی عثمانی حملہ کیس:ملزم اپنے پاس چاقو کیوں رکھتا تھا؟

معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی پر کراچی میں جمعرات کو علی الصبح ہونے والے مبینہ حملے میں گرفتار شخص کے بارے میں مزید انکشافات ہوئے ہیں۔
پولیس تفتیش میں مزید پتہ چلا ہے کہ وہ شخص ذہنی مرض شیزوفرینیا میں مبتلا تھا اور اس کا علاج گلشن اقبال میں واقع ایک نجی ادارے میں سن 2015 سے جاری تھا۔
اس بات کی تصدیق کے لیے سماء ڈیجیٹل نے السید سائیکائٹرک انسٹی ٹیوٹ کا دورہ کیا جس کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ ملزم عاصم لئیق وہاں زیر علاج تھا۔ ادارے کے کسنلٹنٹ ڈاکٹر سید اجمل کاظمی معاملے کی سنگینی کے پیش نظر بالآخر اس حوالے سے گفتگو کرنے پر آمادہ ہوگئے۔
ڈاکٹر سید اجمل کاظمی نے اس بات کی تصدیق کی کہ مفتی تقی عثمانی پر حملے کے کیس میں گرفتار ملزم عاصم لئیق شیزوفرینیا کے مرض میں مبتلا ہے اور ان ہی کے زیر علاج ہے۔
ڈاکٹر اجمل کا کہنا تھا کہ اسے واہمے کی شکایت لاحق ہے اور ایسی حالت میں مریض کو ایسی اشیاء نظر آتی ہیں اور آوازیں سنائی دیتی ہیں جو حقیقت میں موجود نہیں ہوتیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مرض کے باعث عاصم عجیب و غریب حرکات کرتا ہے کیوں کہ اسے اردگرد کے افراد کی جانب سے نقصان پہنچائے جانے کا خدشہ لاحق رہتا ہے۔
ڈاکٹر اجمل نے کہا کہ شیزوفرینیا کے دیگر مریضوں کی طرح وہ بھی اپنے اہل خانہ سمیت ہر ایک کو اپنا دشمن تصور کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ یہ تو نہیں بتا سکتے کہ عاصم اپنے پاس چاقو کیوں رکھتا تھا لیکن ایسے مرض میں مبتلا مریض اپنے خیالی دشمنوں سے بچاؤ کے لیے کوئی نہ کوئی شئے ساتھ رکھتا ہے۔
معالج کا کہنا تھا کہ ان کے مریض کو موڈ کی اچانک تبدیلیوں کو قابو میں رکھنے کے لیے دوا دی جاتی تھی تاہم ایسی دوا اس مرض کا کامل علاج تو نہیں بس اس کا اثر گھٹا دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عاصم کے گھر والوں نے یہ سمجھ کر اس کی شادی کروادی تھی کہ اس کے بعد وہ ٹھیک ہوجائے گا لیکن بعد میں جب اس کی بیوی کو مرض کا پتہ چلا تو اس نے گزشتہ دسمبر میں اس سے اپنی راہیں جدا کرلیں۔
ڈاکٹر اجمل نے بتایا کہ بیوی کے چھوڑ جانے کے بعد سے وہ ان کے پاس نہیں آیا لیکن اس کی بہن نے انہیں ایک روز آکر بتایا تھا کہ لئیق نے دوائیں لینی چھوڑ دی ہیں اور پھر سے عجیب و غریب حرکتیں کرنے لگا ہے۔
معالج نے بتایا کہ انہوں نے عاصم کی بہن کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بھائی کو زبردستی دوا دے یا اسے اسپتال میں داخل کرا دے تاکہ اس کا باقائدہ علاج ہوسکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عاصم ایک مذہبی ذہن رکھنے والا شخص اور پنج وقتہ نمازی ہے اور اسے مفتی تقی عثمانی سے خاصی عقیدت ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ جمعرات کو عاصم دارالعلوم کورنگی میں فجر کی نماز کے بعد مفتی تقی عثمانی سے ملا تھا اور اس دوران اسے وہاں موجود افراد نے چاقو سمیت پکڑ لیا تھا جس کے بعد اس کے خلاف مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے کی کوشش کرنے کے الزام میں عوامی کالونی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کر لی گئی تھی۔ بعد ازاں جمعہ کو اسے عدالت میں پیش کیا گیا جس نے اسے ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کراچی: ویکسینیشن سرٹیفیکٹ نہ ہونے پر14 دکانیں سیل

کراچی: ویکسینیشن سرٹیفیکٹ نہ ہونے پر14 دکانیں سیل

پاک امریکا وزرائے خارجہ رابطہ، افغان صورتحال پر گفتگو

پاک امریکا وزرائے خارجہ رابطہ، افغان صورتحال پر گفتگو