in

آئمہ مساجد کو سرکاری اعزازیہ دیےجانے پر علماء تقسیم کیوں؟

آئمہ مساجد کو سرکاری اعزازیہ دیےجانے پر علماء تقسیم کیوں؟

خیبرپختونخوا کے محکمہ خزانہ نے علماء کرام اور اقلیتی رہنماؤں کے ماہانہ وظیفوں کے لیے 62 کروڑ روپے سے زائد رقم جاری کردی۔

حکومت نے مالی سال کے پہلے دن صوبہ بھر کے 20 پیش اماموں کے لیے 3 مہینے کا اعزازیہ جاری کیا جبکہ مجموعی طور پر اس منصوبے کے تحت ماہانہ22 کروڑ روپے اور سالانہ ڈھائی ارب روپے سے زائد رقم پیش اماموں میں بطور اعزازیہ تقسیم ہوگی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے اقدام کو صوبائی حکومت کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئمہ کرام کو ہر 3 مہینوں کی یکمشت ادائیگی کی جائے گی اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

چیف خطیب خیبرپختونخوا مولانا طیب نے اقدام پر صوبائی حکومت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خیبر پختونخوا کی موجودہ حکومت ہے جس نے پہلی بار علماء کی فلاح وبہبود کے لیے قدم اُٹھایا۔

مذکورہ منصوبہ سال2018 میں شروع کیا گیا تھا۔ سن 2018 میں الیکشن سے قبل اس وقت کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی ہدایت پر صوبے بھر سے 58 ہزار کے قریب آئمہ کرام کا ڈیٹا جمع کیا گیا تھا۔

بعد ازاں فیصلہ ہوا کہ وظیفہ صرف جامعہ مساجد جہاں باقاعدگی کے ساتھ جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے کے آئمہ کرام کو دیا جائے گا۔

جہاں علماء کی اکثریت اس فیصلے کے تعریف کر رہی ہے وہیں جمعیت علماء اسلام ف اس اقدام کی مخالفت کررہی ہے اور اسے علماء کرام کو تقسیم کرنے کا منصوبہ قرار دے رہی ہے۔

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اسے سیاسی رشوت قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت کو تفویض کردہ ایجنڈے کی تکمیل کا نام دیا۔

جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ اس طریقے سے حکومت خطیبوں پر اپنا سرکاری بیانیہ مسلط کرنے کی کوشش کرے گی۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

GOLD RATE, PAKISTAN

سونا مسلسل دوسرے روز مہنگا

ٹویوٹا فورچونر کی قیمت میں سوا 2لاکھ روپے کمی کاامکان

ٹویوٹا فورچونر کی قیمت میں سوا 2لاکھ روپے کمی کاامکان