in

عزیربلوچ عدالت میں اپنے اقبالی بیان سے دوبارہ منحرف ہوگیا

عزیربلوچ عدالت میں اپنے اقبالی بیان سے دوبارہ منحرف ہوگیا

لیاری کا گینگسٹرعزیربلوچ عدالت میں ایک بار پھر اپنے اقبالی بیان سے منحرف ہوگیا ہے۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں قتل، پولیس پر حملے سمیت دیگر مقدمات کی سماعت ہوئی۔ عزیر بلوچ نے عدالت کو بیان دیا کہ کبھی اقبالی بیان نہیں دیا اورجوڈیشل مجسٹریٹ  کو کئی ماہ سے بلایا جارہا ہے لیکن وہ پیش نہیں ہورہے ہیں۔ عزیر بلوچ نےعدالت سے درخواست کی کہ مجسٹریٹ کو پنجتن کی قسم دے کر پوچھا جائے کہ عزیر بلوچ نے 164 کا بیان دیا تھا یا نہیں۔ عزیر بلوچ نے عدالت کو مزید کہا کہ یقین ہے کہ مجسٹریٹ پنجتن کی قسم پر جھوٹ نہیں بولیں گے۔عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کردی ہے۔

لياری گينگ وار کے سرکردہ کردار عزيربلوچ نے اپنے اقبالی بيان ميں کہا ہے کہ سابق صدرآصف زرداری کےکہنےپراپنے گروہ کے 15 سے 20 لڑکے بلاول ہاؤس بھیجےجنہوں نے بلاول ہاؤس کے اطراف 30 سے 40 بنگلے اور فلیٹ زبردستی خالی کرائے۔

عزیربلوچ کے اقبالی بیان میں بتایا گیا ہے کہ پیپلزپارٹی رہنما اویس مظفر کو آصف زرداری کے ليے14 شوگر ملوں پر قبضے میں مدد کی۔ بلاول ہاؤس کے اطراف بنگلےاورفلیٹ زبردستی خالی کروانے کی آصف زرداری نے انتہائی کم قیمت ادا کی۔عزير بلوچ کے بيان ميں سابق صدرآصف زرداری،اویس مظفر،شرجیل میمن، قادر پٹیل اور پيپلزپارٹی کے ديگر رہنماؤں پرسنگين الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

عزيربلوچ کے اقبالی بيان ميں يہ بھی ہے کہ وہ ایرانی خفیہ ایجنسی کے حاجی ناصر کے ساتھ ایران گیا اور ایرانی خفیہ ایجنسی کے افسران سے ملاقات کی اور کراچی میں قائم حساس اداروں کے دفاتر اور تنصیبات کے نقشے دئیے اور تصاویر دینے کا وعدہ کیا۔ملاقات میں اہم تنصیبات کے داخلی وخارجی راستوں کی نشاندہی کرائی گئی اورسیکیورٹی پر مامور لوگوں کی تعداد، رہائش اور آمدورفت کا بھی بتایا گيا۔عدالت نے عزيربلوچ کے بیان کو رینجرز اہلکاروں کے قتل کیس کاحصہ بنالیا ہے۔

دو ہفتے قبل جوڈیشل مجسٹریٹ نےعزیربلوچ کےاقبالی بیان کی نقول اے ٹی سی میں پیش کردی ہیں۔عزیر بلوچ نے بیان دیا کہ سال 2003 میں لیاری گینگ وار میں شمولیت اختیار کی اور سال 2008 ميں جیل میں پیپلزپارٹی رہنما فیصل رضا عابدی اور جیل سپرنٹنڈنٹ نصرت منگن کے کہنے پر پیپلز پارٹی کے قیدیوں کا ذمہ داربنایا گیا۔

عزیربلوچ نے بتایا کہ رحمان ڈکیت کی ہلاکت کے بعد لیاری گینگ وار کی کمان سنبھالی اور پیپلز امن کمیٹی کے نام سے مسلح دہشت گرد گروہ بنایا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ بلوچستان سے اسلحہ منگواتے تھے جس کواغوا برائے تاوان، قتل و غارت گری ،سیاسی جلسوں اور ہڑتالوں کو کامیاب بنانے ميں استعمال کيا جاتا تھا۔اس کےعلاوہ لیاری میں ذوالفقار مرزا، قادر پٹیل اور سینیٹر یوسف بلوچ سے کہہ کر اپنی مرضی کے پولیس افسران تعينات کرانے کا بھی اعتراف کيا ہے۔

عزير بلوچ نے يہ بھی بتايا کہ پولیس کی مدد سے ارشد پپو، اس کے بھائی اور ساتھی کو اغوا کیا۔ تینوں کے سر تن سے جدا کرکے لیاری کی گلیوں میں فٹ بال کھیلا اور لاشوں کو جلا دیا۔اس واردات کی فوٹيج بنا کر وائرل کی تا کہ دہشت پھيلے۔

استغاثہ نےعزیر بلوچ کی بریت چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ۔ استغاثہ نے موقف دیا کہ ان مقدمات میں گواہوں کے بیانات پر توجہ نہیں دی گئی جبکہ عزیر بلوچ کو سزا دلوانےکیلئےشواہد موجود ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ مقدمات بحال کرنے اور گواہوں کو ازسرنو سننے کی استدعا کی جائے گی۔ان میں قتل ، اقدام قتل ، اغوا ، پولیس مقابلہ اور غیر قانونی اسلحہ کےمقدمات شامل ہیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

بینک سے رقم نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس کا خاتمہ،ایف بی آر

بینک سے رقم نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس کا خاتمہ،ایف بی آر

شادی میں والدین کی عدم شرکت لیکن پروپوز کس نے کیا؟حریم شاہ ایک بار پھر بول پڑیں

شادی میں والدین کی عدم شرکت لیکن پروپوز کس نے کیا؟حریم شاہ ایک بار پھر بول پڑیں