in

مشرف نےاہم فیصلوں میں کورکمانڈرزکواعتماد میں نہیں لیا،غلام مصطفیٰ

مشرف نےاہم فیصلوں میں کورکمانڈرزکواعتماد میں نہیں لیا،غلام مصطفیٰ

جنرل ریٹائرڈ غلام مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے امریکا کو بیسز دینے سمیت اہم معاملات پر کورکمانڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے غلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کو کسی سے منطوری کی ضرورت بھی نہیں تھی کیوں کہ وہ خود ہی سب کچھ تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے پرویزمشرف نے کچھ آفیسرز کو الگ سے اعتماد میں لیا ہوں مگر اکثر فیصلے کورکمانڈرز کانفرنسوں میں نہیں ہوئے تھے۔
غلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ آج کے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں تمام اہم معاملات بشمول کشمیر اور افغانستان پر عسکری قیادت کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے ابھی خطرات بڑھ رہے ہیں ہوسکتا ہے افغانستان میں سویت یونین دور کی خانہ جنگی نہ ہو لیکن امریکا جو بھارت کے ساتھ مل کر خطے میں کرنا چاہتا ہے وہ خطرناک ہے۔
وزیراعظم کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے غلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ ہر فیصلے کے ہرقسم کے اثرات ہوتے ہیں لیکن امریکی حکام کو یہ احساس نہیں ہورہا کہ وہ کمزور پڑ رہے ہیں اور چین ایک عالمی طاقت بن رہا ہے۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما پیپلزپارٹی مولابخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ یہ تیسرا موقع ہے کہ عسکری قیادت سیاسی قیادت کو بریفنگ دے رہی ہے جو خوش آئند ہے۔
مولا بخش کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے تھا لیکن پوری سیاسی عسکری قیادت آج کے اجلاس میں موجود ہے اور وزیراعظم موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کو پارلیمنٹ میں بلانا شائد آسان ہے لیکن وزیراعظم شائد خود کو بہت زیادہ طاقتور سمجھتے ہیں وہ تکبر سے بھرے ہوئے ہیں جو اپوزیشن لیڈر سے بات ہی نہیں کرنا چاہتے۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ ن مصدق ملک کا کہنا تھا کہ وزیراعظم حالت جنگ میں بھی اجلاس میں نہیں آئے تھے تو آج کی اجلاس میں شرکت نہ کرنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے۔
مصدق ملک کا کہنا تھا کہ ایک ایسے اجلاس میں جس میں تمام سیاسی اور عسکری قیادت موجود تھی اس میں وزیراعظم نے شرکت نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ بیٹھنا نہیں چاہتے تھے تو کسی کونے میں بیٹھ جاتے مگر اجلاس میں شرکت ضرور کرتے۔
رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ خارجہ پالیسی کا کیا کرنا ہے یعنی ہمیں اتحاد توڑنے ہیں یا جوڑنے ہیں۔
مصدق ملک کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کل جو پرویز مشرف کے دور پر تنقید کی گئی یہ بات تو نوازشریف بھی کیا کرتے تھے جس کو ڈان لیکس کہا گیا۔
انہوں نے کہا کہ نوازشریف بھی یہی کہتے تھے کہ افغانستان میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور ہمیں کسی کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما تحریک انصاف ملیکہ بخاری کا کہنا تھا کہ آج کے اجلاس میں خارجہ اور ڈیفنس کمیٹی کے ممبران اور پارلیمانی لیڈرز کو دعوت دی گئی تھی۔
ملیکہ بخاری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پارلیمنٹ اور عوام کو قومی سلامتی سے متعلق معاملات پر اعتماد میں لے چکے ہیں، آج کے اجلاس میں صرف بریفنگ دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جہاں فیصلہ کرنے کا وقت ہوگا تو وزیراعظم اس اجلاس میں ضرور شرکت کریں گے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کیا نیگلیریا زیرزمین پانی میں بھی نشوو نما پاسکتا ہے؟

کیا نیگلیریا زیرزمین پانی میں بھی نشوو نما پاسکتا ہے؟

عالمی طاقتوں نے دھمکانے کی کوشش کی تو کچل دینگے،چینی صدر

عالمی طاقتوں نے دھمکانے کی کوشش کی تو کچل دینگے،چینی صدر