in

ہمیں چورکہنےوالےہم سےبھی سخت بات کی توقع رکھیں

ہمیں چورکہنےوالےہم سےبھی سخت بات کی توقع رکھیں

مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر عمر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہر تقریر میں چور اور ڈاکو کا تذکرہ ہوتا ہے اگر ہمیں کوئی ایسے نام دے گا تو پھر ہم سے بھی ہر سخت بات کی توقع رکھے۔
زبیر عمر کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں ہلڑبازی کی شروعات حکومت کی طرف سے کی گئی اب اگر وزراء اس قسم کے رویوں کا مظاہرہ کریں گے تو باقی لوگوں سے ہم کیا توقع کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم جمہوری لوگ ہیں تو ہمیں جمہوری رویوں کو اپنانا بھی ہوگا تاکہ کسی تیسرے کو بذریعہ فون مداخلت نہ کرنی پڑے۔
زبیرعمر کا کہنا تھا کہ ہماری ذمہ داریاں طے ہیں حکومت کا کام فیصلہ اور قانون سازی اور اپوزیشن کا اختلاف اور غلط فیصلوں پر احتجاج ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اسپیکر اسد قیصر کو اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کی تحقیقات کرنی ہے تو شروع سے ویڈیو دیکھیں انہیں پتہ چل جائے گا کہ شروعات کس کی طرف سے ہوئی تھی۔
زبیرعمر کا کہنا تھا کہ یہ بلکل واضح ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی تقریر کا نہ ہونا کس کے مفاد میں تھا۔
رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ اسدعمر نے آج بھی خطاب میں لندن کی جائیدادوں کا ذکر کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ ہمیں چور کہیں اور ہم خاموش رہیں۔
زبیرعمر کا کہنا تھا کہ حکومت جو الیکشن کے حوالے سے بل لے کر آئی ہے کیا اس میں اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ ووٹ کے تقدس کو پامال نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت الیکشن کمیشن کے اختیارات نادرہ کو دے رہی ہے جس پر ہیمیں تحفظات ہیں۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما پیپلزپارٹی پلوشہ کا کہنا تھا کہ ایوان کے اندر احتجاج ہمیشہ سے ہوتا ہے لیکن جو چند دن سے ہورہا ہے یہ منظم منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جارہا تھا۔
پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے رکن اسمبلی نے بلاول کے خطاب کے دوران گندی زبان استعمال کی جب کہ ساتھ بیٹھے اراکین انہیں ٹوکنے کے بجائے ہنس رہے تھے۔
رہنما پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ میں اگر وہاں ہوتی تو شائد میں ان کا گریبان پکڑتی۔ پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ میں نے بلاول بھٹو سے پوچھا کہ ہم جواب دینا چاہتے ہیں مگر انہوں نے ہمیں منع کردیا۔
انہوں نے کہا کہ کمزور تو کوئی بھی نہیں لیکن یہ حق کسی کے پاس نہیں کہ دوسروں کو گالیاں دے۔
پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ حکومت زور زبردستی کے ذریعے اپنی طاقت ثابت کرنا چاہ رہی ہے مگر ہمیں اخلاقیات کا بھاشن دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو 3 دن میں ایوان میں ہوا اس کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑے گا۔
پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے حکومت کے بل پر سوال اٹھا دیا ہے کیوں کہ حکومت ووٹ رجسٹریشن کا اختیار نادرہ کو دے رہے ہے جو حکومت زیر نگرانی ادارہ ہے۔
پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے رہنما تحریک انصاف شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ ہماری اقدار اور روایات اس بات کی اجازت نہیں دیتے جو ہم دیکھ رہے ہیں۔
شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ سن 2013 سے سن 2018 تک ہم بھی اپوزیشن میں تھے مگر ہم نے کبھی لائن کراس نہیں کی بلکہ صرف اپنی نشستوں پر احتجاج کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ایوان میں 3 سال سے گالیاں دی جارہی ہیں اور حد تو یہ ہے کہ ایک سابق وزیراعظم اسپیکر کو کہتے ہیں کہ میں آپ کو جوتا ماروں گا۔
شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ ہم 3 سال سے سہہ رہے ہیں کہ اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن خطاب کرے یا لیڈر آف ہاؤس یہی ہوتا ہے۔
رہنما تحریک انصاف نے سوال کیا کہ شہبازشریف کی تقریر کے دوران ن لیگی اراکین کیوں نعرے لگا رہے تھے کیا انہیں یہ ہدایت مریم نواز نے کی تھی۔

شہریارآفریدی کا کہنا تھا کہ ن لیگی اراکین نے ایوان کے اندر جو الفاظ مراد سعید ،عمران خان اور شیرں مزاری کے لیے استعمال کیے تھے وہ سننے کے لائق بھی نہیں ہیں۔
شہریارآفریدی کا کہنا تھا کہ پوری قوم نے اراکین اسمبلی کا رویہ دیکھا قوم اضطراب میں ہے اور شائد صرف معافی سے اس کا ازالہ ممکن نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ن لیگی ہمیں بھاشن دے رہے ہیں کیا وہ یہ بھول گئے کہ اسمبلی کے اندر یہ بےنظیر بھٹو کےساتھ کس قسم کا رویہ رکھتے تھے۔
رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ اسپیکر اسدقیصر نے آج کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں جو بلز پاس ہوئے ہیں اس پر اپوزیشن کے اعتراضات سنے جائیں گے.



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ملک بھر میں قائم 122 گھی ساز ملوں نے اپنی ملیں بند کرنے کی دھمکی دیدی

ملک بھر میں قائم 122 گھی ساز ملوں نے اپنی ملیں بند کرنے کی دھمکی دیدی

تربت ایئرپورٹ کے قریب دہشتگردوں کا حملہ،اہلکار شہید

تربت ایئرپورٹ کے قریب دہشتگردوں کا حملہ،اہلکار شہید