in

وزیرستان میں فوج پر حملوں کے پیچھے کون

وزیرستان میں فوج پر حملوں کے پیچھے کون

پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کا علاقہ وزیرستان 11 ہزار 5 سو پچیاسی مربع کلومیٹر رقبے پر محیط ایسا علاقہ ہے جو اپنے شورش زدہ حالات کے باعث خبروں کی زینت بنتا رہتا ہے۔ افغان سرحد سے ملحقہ ضلعے میں گزشتہ 8 سے 9 ماہ میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔ جس میں کئی چھوٹے اور بڑے حملے شامل ہیں۔

حملوں سے متعلق آئی ایس پی آر اور کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے بھی مختلف بیانات او دعوے سامنے آئے ہیں، دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کی خلاف بڑی کارروائی اور اس میں بھاری جانی نقصان کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

جنوبی اور خاص کر شمالی وزیرستان کے دور افتادہ علاقوں میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو رسائی حاصل نہیں، یہ ہی وجہ ہے کہ ان جھڑپوں کے بارے میں آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباَ ناممکن ہے۔

وزیرستان میں دہشت گردی کے واقعات اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافے کو اس علاقے میں طالبان کے دوبارہ سرگرم ہونے کی وجہ بھی قرار دیا گیا ہے، جب کہ کچھ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ضرب عضب اور دیگر آپریشنز کے دوران شمالی وزیرستان کے دورہ افتادہ علاقوں کو بغیر کلیئرنس آپریشن کے چھوڑ دیا گیا تھا، جس کے بعد زندہ بچ جانے والے دہشت گردوں نے ملک کے دیگر حصوں سے فرار ہو کر ان علاقوں کا رخ کیا۔

افغان سرحد سے جڑے یہ علاقے شروع ہی سے دہشت گردوں کے محفوظ مقامات سمجھے گئے ہیں۔ ان علاقوں میں دہشت گرد سرحد پار با آسانی جا اور آسکتے ہیں۔

 امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں تیزی کی ایک وجہ مختلف خفیہ اداروں میں ہم آہنگی نہ ہونے کا بھی نتیجہ ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور خفیہ اداروں میں ہم آہنگی کی کمی کے باعث فورسز کے خلاف حملے بڑھے ہیں۔ تاہم سرکاری سطح پر اس رپورٹ سے متعلق کوئی ردعمل سامنے نہیں آسکا۔

ان حملوں میں اضافے کی دوسری اہم وجہ حال ہی میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں نے دوبارہ تحریک طالبان پاکستان کیساتھ ملکر نیا اتحاد بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کا مقصد سیکیورٹی فورسز اور ان کے ہمدردوں کے خلاف مشترکا مسلح جنگ کرنا ہے۔ ان تنظیموں سے وابستہ جنگجو نہ صرف وزیرستان بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی پاک فوج اور ان سے کسی نہ کسی طور پر وابستہ افراد کو ٹارگٹ بنا کر قتل کر رہے ہیں۔

جیسے حال ہی میں 2 جنوری کو فتح جنگ روڈ پر دہشت گردوں نے خفیہ ادارے کے ایک اہلکار کو ٹارگٹ  کیا۔

ایک اندازے کے مطابق گزشتہ سال 2020 میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف سب سے زیادہ حملے اکتوبر میں کیے گئے۔ جس میں فورسز کے قافلے پر حملے کے دوران کیپٹن عمر فاروق چیمہ سمیت 6 اہل کاروں نے جام شہادت نوش کیا۔

اسی ماہ میں 3 دن مسلسل نامعلوم دہشت گردوں نے حملوں میں سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جس میں 4 اہلکار شہید اور 9 زخمی ہوئے۔ ترجمان پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ان حملوں میں اہلکاروں کی شہادت اور متعدد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

پورا دن بجلی بند ہونیکی باتیں افواہیں ہیں،آئیسکو

پورا دن بجلی بند ہونیکی باتیں افواہیں ہیں،آئیسکو

کراچی سمیت سندھ میں آج موسم آبر الود،ہلکی بارش کا امکان

کراچی سمیت سندھ میں آج موسم آبر الود،ہلکی بارش کا امکان