in

جنوبی پختونخوا صوبے کا مطالبہ بھی سامنے آگیا

جنوبی پختونخوا صوبے کا مطالبہ بھی سامنے آگیا

جنوبی پنجاب کے بعد خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع کی محرومیاں دور کرنے کے لیے بھی جنوبی پختونخوا کے نام سے الگ انتظامی یونٹ بنانے کا مطالبہ سامنے آگیا۔

تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر دوست محمد خان محسود کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب کی طرح جنوبی پختونخوا کے لیے بھی الگ سیکریٹریٹ قائم کیا جائے تاکہ جنوبی اضلاع کی محرومیاں ختم ہوجائیں۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کی اجلاس میں سینیٹر دوست محمد خان محسود نے خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کے لیے ساؤتھ پنجاب کی طرح الگ بلاک یعنی الگ سیکرٹریٹ، الگ بجٹ و الگ ایڈیشنل چیف سیکرٹری جوکہ اس کو کنٹرول کریں گے کا مطالبہ کردیا ۔

 سینیٹر دوست محمد خان محسود کا کہنا تھا کہ جنوبی اضلاع کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہیں اور ان اضلاع کے ساتھ تخت پشاور کا رویہ غیرمنصفانہ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وقت کی اشد ضرورت ہے کہ ان اضلاع کا الگ بلاک بنا کر جنوبی پنجاب کی طرح علیحدہ سیکرٹریٹ، بجٹ و مانیٹرنگ نظام جو کہ اس بلاک کے لیے متعین کردہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے ماتحت ہو بنایا جائے تاکہ جنوبی اضلاع کے عوام تک بھی برابری کا ریلیف پہنچ سکے۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر دوست محمد خان محسود کا کہنا تھا کہ صوبے کے لیے سب سے زیادہ ریونیو جنوبی اضلاع ہی جنریٹ کررہے ہے۔

دوست محمد محسود کا مزید کہنا تھا کہ صرف گیس اور آئل کا ریونیو ہمارے صوبے کے مرکزی خزانے میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔ اتنا ریونیو جنریٹ کرنے کے باوجود تخت پشاور نے ان اضلاع کو مسلسل محروم رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان پسماندہ اضلاع کو الگ حثیت دینا وقت کی ضروت ہے تاکہ یہ لوگ بھی ملکی ترقی میں کردار ادا کرسکیں۔

رہنما تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ جنوبی اور شمالی وزیرستان کے اکثر علاقے سوات اور مری سے کم خوبصورت نہیں ہیں مگر ان علاقوں میں انفرااسٹرکچر نہ ہونے کے باعث سیاحت نہ ہونے کے برابر ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

اشیاءضروریہ کی قیمتوں کو اعتدال پر لانے کیلئے اقدامات کئے جائیں:سردار یاسر الیاس

اشیاءضروریہ کی قیمتوں کو اعتدال پر لانے کیلئے اقدامات کئے جائیں:سردار یاسر الیاس

نئے مالی سال میں کتنے لاکھ افراد کو روزگار ملےگا؟

نئے مالی سال میں کتنے لاکھ افراد کو روزگار ملےگا؟