in

پنجاب کی نرسوں کا ڈیٹا لیک،فون پربلیک میلنگ کی شکایات

پنجاب کی نرسوں کا ڈیٹا لیک،فون پربلیک میلنگ کی شکایات

پنجاب کے محکمہ پرائمری اينڈ سيکنڈری ہیلتھ کیئر سے صوبے بھر کی نرسز کا ڈیٹا لیک ہوگيا جس کے بعد نرسز کو نامعلوم افراد کی فون کالز آنا شروع ہوگئیں جو انہیں بلیک میل کرکے پیسوں کا مطالبہ کرنے لگے۔ اس صورتحال کے بعد محکمے نے تمام نرسز کو ایسے جعلسازوں سے بچنے اور انہیں پیسے نہ دینے کی ہدایت کی ہے۔
اس معاملے پرسماء کے پروگرام سات سے آٹھ میں ایک سیگمنٹ کیا گیا جس میں ترجمان پنجاب حکومت مسرت چیمہ سے گفتگو کی گئی جنہوں نے بتایا کہ ڈیٹا لیک ہونے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے اور اس میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے گی۔
مسرت چیمہ کا کہنا تھا کہ لیک ڈیٹا سے انکشاف ہوا ہے کہ محکمے میں 18 ہیڈ نرسز کے دستاویزات جعلی تھے جس پر حکومت نے جعلی لیٹر پر بھرتی ہونے والی نرسز کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی نرسز کی تقرری پی ٹی آئی کے حکومت میں نہیں ہوئی۔
ترجمان پنجاب حکومت نے جعلی دستاویزات پر ہوئی بھرتیوں کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ محمکے میں ایسے مزید افراد بھی ہوسکتے ہیں جنہوں نے جعلی کاغذات کی بنیاد پر ملازمت حاصل کی ہو۔
مسرت چیمہ کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت کے تمام ڈیٹا کا آڈٹ کیا جائے گا اور جعلی دستاویزات پر بھرتی ہونے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
نامعلوم افراد کی جانب سے نرسز کی بلیک میلنگ کی اطلاعات سے متعلق مسرت چیمہ نے امکان ظاہر کیا کہ بلیک میل کیے جانے والوں میں ایسے اشخاص بھی شامل ہوسکتے ہیں جن کے دستاویزات اصلی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو کسی غلط طور پر بھرتی نہیں ہوئے انہیں کسی قسم کی بلیک میلنگ میں آنے کی ضرورت نہیں جبکہ پیسے بھرنے کا تو جعلی دستاویزات والوں کو بھی کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ اب تو ان کے خلاف ویسے ہی انکوائری ہو رہی ہے۔
مسرت چیمہ کا کہنا تھا کہ دھوکا دہی میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا ملے گی اور انہیں اب تک حاصل کی گئی تمام مراعات بھی واپس کرنی پڑیں گی۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

سفرکےسابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے،اب تھوڑا آرام تو بنتا ہے

سفرکےسابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے،اب تھوڑا آرام تو بنتا ہے

خیبرپختونخوا: نوجوانوں کو انتہاپسندی سے بچانے کیلئے مفاہمتی یادداشت

خیبرپختونخوا: نوجوانوں کو انتہاپسندی سے بچانے کیلئے مفاہمتی یادداشت