in

امریکافوجی اڈوں کیلئے آرمی چیف سےرابطے میں ہے،خرم دستگیرکادعویٰ

امریکافوجی اڈوں کیلئے آرمی چیف سےرابطے میں ہے،خرم دستگیرکادعویٰ

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ امریکا فوجی اڈوں کے معاملے پر وزیردفاع سے بات کرنا گوارا نہیں کرتا وہ اس حوالے سے آرمی چیف سے رابطے میں ہے۔
خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ وزیرخارجہ نے سینیٹ میں بیان دیا تھا کہ عمران خان کے ہوتے ہوئے ہم امریکا کو اڈے فراہم نہیں کریں گے امریکا سے تو اس حوالے سے متضاد خبریں آرہی ہیں۔
انہوں نے حکومتی پالیسی کو ملکی مفاد کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کہہ رہا ہے کہ اڈے کے معاملے پر پاکستان سے بات چیت جاری ہے لہٰذا اگر حکومت نے اس کے خلاف اسٹینڈ لیا ہے تو پھر وہ وضاحت کرے کہ مذاکرات کیوں چل رہے ہیں۔
خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ ہم بھارت سے بات نہیں کریں گے جب کہ سیکیورٹی اداروں نے میڈیا نمائندوں کو بلا کر کہا کہ ہماری بھارت سے 6 مہینے سے بات چیت چل رہی ہے۔
رہنما ن لیگ نے کہا کہ اس تضاد کو دور کیا جائے کیونکہ ہم یہ برداشت نہیں کرسکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا سیاسی اور عسکری حکام سے مختلف بات کرکے اس تضاد کو اپنے حق میں استعمال کررہا ہے لہٰذا ہمیں واضح کرنا ہوگا کہ پاکستانی حکومت اور فوج کی پالیسی ایک ہے۔
خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ حکومت کو ایسے معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے اگر رازداری کا مسئلہ ہو تو معاملے پر پارلیمانی کمیٹی میں بھی بریفنگ دی جاسکتی ہے۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما تحریک انصاف فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اس معاملے پر ایک واضح مؤقف رکھتے ہیں کہ ہم مزید کسی کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ میری موجودگی میں وفاقی کابینہ کی کسی اجلاس میں امریکا کو اڈے دینے کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ افسوس کا مقام تو وہ تھا جب امریکی حکام ڈومور کہہ رہے تھے اور ہم اس پر عملدرآمد کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ کارگل جنگ میں نوازشریف نے جو بل کلنٹن کے آگے ہاتھ کھڑے کردیے تھے کیا وہ ملک کی بدنامی نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی معاملات پر فوج کے ساتھ مشاورت کی جاتی ہے اور اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے تاہم آخری فیصلہ وزیراعظم کا فیصلہ ہوتا ہے۔
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ امریکا کی کوشش ہے کہ افغانستان کی جانب سے ان کا ملک محفوظ ہو لیکن ہم کسی کی خواہش کےلیے مزید نقصان اٹھانے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری بھی یہی کوشش ہوگی کہ پاکستان محفوظ ہو اس لیے ہم وہ فیصلہ کریں گے جو پاکستان کے مفاد میں ہوگا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

عالمی برادری یورپ میں بڑھتااسلاموفوبیا روکنے کیلئےکردارادا کرے

عالمی برادری یورپ میں بڑھتااسلاموفوبیا روکنے کیلئےکردارادا کرے

ویڈیو:کيا کبھی کسی نےآپ کوکرونا ويکسين لگوانےسےمنع کيا؟

ویڈیو:کيا کبھی کسی نےآپ کوکرونا ويکسين لگوانےسےمنع کيا؟