in

بنوں:قبائلی رہنما کی لاش کےہمراہ دھرنا نویں دن میں داخل

بنوں:قبائلی رہنما کی لاش کےہمراہ دھرنا نویں دن میں داخل

بنوں میں قبائلی رہنما کے قتل کے خلاف ان کی لاش کے ہمراہ دھرنا منگل کو نویں روز میں داخل ہوگیا۔ جانی خیل میں دھرنے پر بیٹھے مظاہرین کا عزم ہے کہ امن کے قیام کے ٹھوس حکومتی اقدامات سے قبل وہ یہ احتجاج ختم نہیں کریں گے۔
ضلع بنوں ضم اضلاع کی سرحد پر واقع ہے جبکہ دھرنے کا مقام جانی خیل بنوں شہر سے 25 کلومیٹر دور شمالی وزیرستان کے سرحد کے قریب ہے۔
قبائلی رہنما نصیب خان کو 31 مئی کو نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ مرحوم نصیب خان نے مارچ کے مہینے میں جانی خیل میں 4 نوجوانوں کی لاشیں ملنے کے بعد علاقہ مکینوں کی طرف سے دیے گئے دھرنے میں حکومت کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
دھرنے کے شرکاء نے حکومت کی جانب سے مارچ میں کیے گئے معاہدے کے تمام نکات پر علمدرآمد تک دھرنا جاری رکھنے اور مطالبات کی عدم منظوری کی صورت میں لاش کے ہمراہ اسلام آباد جانے کا بھی عندیہ دیا ہے۔
بنوں پولیس نے سیاسی رہنماؤں کو دھرنے میں شرکت سے بھی روک دیا ہے تاہم متعدد سیاسی رہنما رکاوٹوں کے باوجود دھرنے کے مقام پر پہنچ گئے ہیں۔
رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ جانی خیل دھرنے میں شرکت کی اور مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔
جمیعت علمائے اسلام کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی مفتی عبدالشکور نے بھی اسی دن احتجاجی دھرنے سے خطاب کیا تھا۔
تاہم جمعرات کو جب پی ٹی ایم سربراہ منظور پشتین کوہاٹ کے راستے جانی خیل جا رہے تھے تو انہیں خوشحال گڑھ کے مقام پر گرفتار کر کے کئی گھنٹے زیرِ حراست رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔
قومی وطن پارٹی کے صوبائی صدر سکندر حیات شیرپاؤ اور سابق سینیٹر باز محمد خان خٹک کی سربراہی میں عوامی نیشنل پارٹی کے ایک وفد کو بھی جانی خیل جانے سے روک دیا گیا تھا۔
ضلعی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ چوں کہ علاقے میں امن ومان کی صورتحال بہتر نہیں ہے اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ سیاسی رہنماؤں کو راستے میں کوئی نقصان پہنچے۔ اس لیے سیاسی شخصیات کو علاقے میں جانے سے روکا جارہا ہے ۔
پولیس نے دھرنے میں اشتعال انگیز تقاریر کے الزام میں 5 افراد کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا ہے۔ پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ نامزد افراد ریاست مخالف تقاریر اور عوام کو اشتعال پر اکسانے میں ملوث ہیں۔
دھرنا منتظمین کا کہنا ہے کہ اگر مطالبات منظور نہیں ہوئے تو وہ لاش کے ہمراہ اسلام آباد کا رح کریں گے اور وزیراعظم ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں گے۔
منگل کو صوبائی اسمبلی میں جانی خیل دھرنے کے شرکاء سے اظہار یکجہتی کے لیے احتجاج کرنے والے رکن اسمبلی نثار مہمند نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ 9 روز گزر گئے عوام لاش کے ہمراہ بیٹھے ہوئے ہیں مگر حکومت کی طرف سے تاحال کوئی اقدام نظر نہیں آرہا۔
نثار مہمند کا کہنا تھا کہ مظاہرین کے مطالبات تو دور کی بات کوئی حکومتی وزیر مظاہرین سے اظہار یکجہتی یا بات کرنے کےلیے بھی نہیں گیا۔
نثار مہمند کا کہنا تھا کہ کل عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی کی قیادت میں پشاور سے بڑا قافلہ مظاہرین سے اظہار یک جہتی کےلیے بنوں جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع میں ایک بار پھر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے اور یہ علاقے میں دہشتگردی کی ایک نئی لہر لگتی ہے۔
نثار مہمند کا کہنا تھا کہ ہم نے کئی بار حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ اس معاملے پر توجہ دیں ورنہ عوام اس بدامنی کو مزید برداشت نہیں کرسکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آج قبائلی اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے وزیراعلیٰ سے ملاقات ہوئی اور ہم نے وہاں دھرنے پر بھی بات کی اس موقع پر شوکت یوسفزئی نے ہمیں بتایا کہ مظاہرین سے بات چیت چل رہی ہے اور بہت جلد معاملات حل ہوجائیں گے۔
رکن خیبرپختونخوا اسمبلی نثار مہمند کا کہنا تھا کہ دھرنا مظاہرین نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے پچھلے معاہدہ پر علدرآمد نہیں کیا تو دفنائے گئے 4 نوجوانوں کی لاشوں کو نکال کر اسلام آباد کی طرف مارچ کیا جائے گا۔
جانی خیل کے عوام نے مارچ کے مہینے میں بھی 4 نوجوانوں کی لاشوں کے ہمراہ دھرنا دیا تھا اور اس کے بعد لاشوں کے ہمراہ اسلام آباد روانہ ہوگئے تھے تاہم اس دن حکومت کے ساتھ معاہدہ ہونے کے بعد شرکاء نے دھرنا حتم کردیا تھا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ مارچ میں کیے گئے معاہدے پر اب تک عملدرمد نہیں ہوا اور علاقے میں گھات لگا کر قتل کا سلسلہ متواتر جاری ہے۔

مارچ میں حکومت اور دھرنا منتظمین کے درمیان ہونے والا معاہدہ

معاہدے کے مطابق جانی خیل کے علاقے میں حکومت مکمل امن قائم کرے گی اور مسلح گرہوں کا خاتمہ کیا جائے گا جبکہ اور اس عمل کے دوران کوئی مکان مسمار نہیں کیا جائے گا۔
جانی خیل کے گرفتار افراد کی جانچ پڑتال کرکے فیصلے پر نظرثانی کا عمل فوری شروع کرکے 3 ماہ میں مکمل کیا جائے گا اور بے گناہ افراد کو رہا کیا جائے گا۔
حکومت بدامنی کے باعث پسماندہ علاقے کی ترقی کے لیے خصوصی پیکج دے گی۔ دھرنے اور احتجاج کے دوران تمام افراد کو رہا کیا جائے گا۔
قتل ہونے والے 4 نوجوانوں کے لواحقین کو امدادی پیکج دیا جائے گا جبکہ واقعہ کی شفاف تحقیقات کرکے ملوث افراد کو سزا دی جائے گی۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

یاسرنواز کا حکومت سے دلوں کو چھولینے والا مطالبہ

یاسرنواز کا حکومت سے دلوں کو چھولینے والا مطالبہ

کینیڈین وزیراعظم نے مسلم خاندان کا قتل دہشتگرد حملہ قرار دیدیا

کینیڈین وزیراعظم نے مسلم خاندان کا قتل دہشتگرد حملہ قرار دیدیا