in

مجوزہ میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس2021 کیخلاف صحافی صف آراء

PAKISTAN-MEDIA-RIGHTS-PROTEST

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ قانون پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021 کے ڈرافٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار رائے کے خلاف کالا قانون قرار دیا ہے جو 1973 کے آئین پاکستان سے بھی متصادم ہے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ قانون پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021 (پی ایم ڈے اے) کا جائزہ لینے اور اس پر مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے کے لیے کراچی پریس کلب میں پی ایف یو جے اور کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کا مشترکہ اجلاس منعقد کیا۔

اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے پی ایف یو جے کے سیکریٹری جنرل سہیل افضل خان نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ذرائع ابلاغ کے لیے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021 (پی ایم ڈی اے) کا مسودہ تیار کیا ہے جسے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، جس کے بعد پیمرا، پریس کونسل آرڈیننس اور موشن پکچرز آرڈیننس منسوخ ہو جائیں گے اور ملک بھر میں کام کرنے والے پرنٹ، الیکٹرنک میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز پی ایم ڈی اے کے تحت کام کریں گے۔

مسودے کے مطابق تمام میڈیا اداروں کے علاوہ ڈیجیٹل میڈیا کے لیے بھی لائیسنس اور این او سی حاصل کرنا اور تجدید لازمی قرار دیا گیا ہے، ملک میں صرف وہ میڈیا ادارے بشول ڈیجیٹل میڈیا کام کر سکیں گے جنھیں پی ایم ڈی اے کی جانب سے لائیسنس یا این او سی جاری کیا جائے گا۔

مسودے کے مطابق کوئی بھی ایسا مواد نشر کرنے یا آن لائن پیش کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جسے حکومت ریاست کے سربراہ، مسلح افواج یا عدلیہ کی بدنامی کا باعث بننے کا سبب سمجھے گی۔ اس آرڈیننس کی خلاف ورزی کی صورت میں تین سال تک قید اور بھاری مالی جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے اور دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں یہ سزا پانچ سال تک بڑھائی جا سکتی ہے اور جرمانہ اس کے ساتھ ہی عائد کیا جاسکے گا۔

اس آرڈینس کی اہم اور خطر ناک بات یہ ہے کہ وفاقی، صوبائی حکومت اور مقامی انتطامیہ کی جانب سے میڈیا کے خلاف اقدامات کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔ آرڈیننس کے تحت میڈیا کمپلینٹ کونسل بھی تشکیل دی جائے گی جو خبروں، پروگرامات اور تجزیوں کے حوالے سے شکایات کا فیصلہ کرے گی، کونسل کو سول کورٹس کے اختیارات حاصل ہوں گے جس کے تحت کونسل کو کسی کو بھی سمن جاری کرنے یا معلومات طلب کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور کے خصوصی اجلاس کے شرکاء نے پی ایم ڈی اے آرڈیننس 2021 کے مسودے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت میڈیا اداروں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کو بھی کنٹرول کرنا چاہتی ہے تاکہ حکومت کی ناقص اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف اٹھنے والی آواز اور تنقید کو دبایا جا سکے اور ہر میڈیا پر صرف حکومتی موقف کو شائع یا نشر کیا جاسکے۔

شرکاء نے کہا کہ حکومت میڈیا کو کنٹرول کرنے کی جس پالیسی پر پہلے دن سے گامزن ہے، یہ صدارتی آرڈیننس اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ جمہوری معاشروں میں آزادی اظہار رائے لازم و ملزوم ہیں، آئین پاکستان بھی آزادی اظہار رائے کی اجازت دیتا ہے، جمہوری معاشرے مثبت تنقید سے پروان چڑھتے ہیں، جبری پابندیوں سے معاشرے میں انتشار اور انارکی پھیلتی ہے۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ اس آرڈیننس سے حکومت ایک جانب تو میڈیا مالکان کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے جبکہ دوسری جانب 1973 کا پریس اینڈ پبلیکیشن ایکٹ ختم کرکے ورکنگ جرنلسٹس کو حاصل حقوق کو بھی سلب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

شرکاء نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت اس صدارتی آرڈیننس کو جو آزادی صحافت، بنیادی انسانی حقوق اور آئین پاکستان کے بھی متصادم ہے نافذ کرنے سے باز رہے، اگر اس فسطائی قانون کو بزور قوت نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم ہر سطح پر قانونی اور سیاسی جنگ لڑیں  گے اور اس قانون کی بھرپور مزاحمت کریں گے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

یہ ایسی دنیا ہے جہاں مرد کسی عورت کی تصویر پر خود لذتی کرکے ویڈیو بنائے تو اسے وائرل کردیا جاتا ہےپاکستانیوں نے ہانیہ عامر کو رلا دیا

یہ ایسی دنیا ہے جہاں مرد کسی عورت کی تصویر پر خود لذتی کرکے ویڈیو بنائے تو اسے وائرل کردیا جاتا ہےپاکستانیوں نے ہانیہ عامر کو رلا دیا

آنٹی آپ اسلام کی بات کیسے کرسکتی ہیں آپ کوئی تبلیغی جماعت چلا رہی ہیں؟ جنت مرزا نے بشریٰ انصاری کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا

آنٹی آپ اسلام کی بات کیسے کرسکتی ہیں آپ کوئی تبلیغی جماعت چلا رہی ہیں؟ جنت مرزا نے بشریٰ انصاری کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا