in

ن لیگ کاایک گروپ سسٹم میں واپسی چاہتاہے،عمرایوب

ن لیگ کاایک گروپ سسٹم میں واپسی چاہتاہے،عمرایوب

وفاقی وزیر عمر ایوب کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے اندر 2 گروپ ہیں ایک خود کو سپرڈیموکریٹک سمجھتا ہے جبکہ دوسرا سسٹم میں واپسی کے لیے منتیں کر رہا ہے۔
سماء کے پروگرام سوال میں گفتگو کرتے ہوئے عمرایوب کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم والے ادھر ادھر سے کوششیں کررہے ہیں کہ کہیں سے کوئی راستہ نکل آئے اور وہ سسٹم کا حصہ بن کر اپنے مفادات کا تحفظ کرسکیں۔
وزیراعظم کے بیان سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے لوگ ضرور کہیں نہ کہیں سے بات چیت کرنے کی کوشش کررہے ہوں گے جس کا وزیر اعظم کو علم ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم گراؤنڈ پر کوئی وجود نہیں رکھتی یہ چند مفاد پرست ٹولے کا ایک اجتماع ہے جو ذاتی مفادات کےلیے کام کررہا ہے۔
عمرایوب کا کہنا تھا کہ ہم سن 2023 میں بھی عوام کا ووٹ لے کر آئے ہیں اور سن 2023 میں بھی مقابلہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی اکثر پارٹیاں پارلیمنٹ سے باہر ہیں اگر عمران خان آج ان کو این آر او دے دیں تو یہ ان کے حق میں نعرے لگائیں گے۔
عمرایوب کا کہنا تھا کہ جب حکومت میں آئے تھی تو اس وقت ہمارے پاس 2 مہینوں کے بھی ریزروز نہیں تھے لیکن ہم نے وہاں سے حالات کو سنبھالا۔
انہوں نے کہا کہ گردشی قرضے کی اصل وجہ ن لیگ کی ناقص منصوبہ بندی ہے غلط معاہدوں کا بوجھ عوام پر نہیں ڈال رہے اس لیے گردشی قرضوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔
عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ن لیگ کے دور حکومت کے آخری سال معیشت قریب المرگ تھی صنعتیں بند ہورہی تھی اور ایکسپورٹ میں اضافہ صفر تھا۔
انہوں نے کہا کہ نندی پور پاورپلانٹ میں 64 ارب روپے کا غلط استعمال ہوا جس کےلیے ایف آئی اے کو بھی تحقیقات کی درخواست دی گئی۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما ن لیگ ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن تو اس وقت زیرعتاب ہے کیا ان کی اتنی رسائی ہوگی کہ وہ فوج سے کہے کہ وزیراعظم کو گھر بھیج دے۔
ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ فوج تو مارشل لاء لگاتی ہے وزیراعظم کو اپنے بیان کی وضاحت کرنی چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ حکومت سلیکٹڈ ہے تو ہم اس کی وجوہات بھی بتاتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے پاس حکومت میں رہنے کی کوئی وجہ ہی نہیں اگر انہیں فوج کی حمایت حاصل نہ ہو تو ان کی حکومت ایک گھنٹہ نہیں چل رہ سکتی۔
انہوں نے بلاول بھٹو کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے مگر آج وہ تعصب کی بات کررہے ہیں انہیں حقائق پر مبنی بات کرنی چاہیے۔
ملک احمد خان کا مزید کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کو اپنے کیسز پر بات کرنی چاہیے تھی رائیونڈ کے وزیراعظم تو اپنی مدت بھی پوری نہیں کرتے اور نواب شاہ کے صدر مدت بھی پوری کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت میں جی ڈی پی 5 اعشاریہ 8 فیصد چل رہی تھی اور بجلی کے مانگ میں اضافہ ہورہا تھا مگر جب جی ڈی پی منفی آجائے تو پھر کپیسٹی پیمنٹ تو کرنی تھی۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم حکومت میں آئے تو ملک میں 1000 ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی تھی اس وقت 18،18 گھنٹے لوڈ شیڈنگ چل رہی تھی اور صنعیتین بند تھی۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

وہ گاڑیاں جن کی قیمتوں میں آئندہ بجٹ میں مزید کمی کا امکان ہے گاڑی لینے کے خواہشمندوں کیلئے خوشخبری

وہ گاڑیاں جن کی قیمتوں میں آئندہ بجٹ میں مزید کمی کا امکان ہے گاڑی لینے کے خواہشمندوں کیلئے خوشخبری

ویڈیو:جےایف17 طیاروں کا فضا میں انوکھا انداز

ویڈیو:جےایف17 طیاروں کا فضا میں انوکھا انداز