in

حکومت نے رائےونڈ کےوزیراعظم کو سزا کے باوجود لندن بھیج دیا،بلاول

حکومت نے رائےونڈ کےوزیراعظم کو سزا کے باوجود لندن بھیج دیا،بلاول

بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کیا دوبارہ عوام کو احتساب کے نام پر بےوقوف بنائیں گے۔اب اِن کا جو احتساب ہوگا وہ عوام کریں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ملک میں قانون کی کوئی حکمرانی نہیں ہے۔ یہ کس قسم کا احتساب اور انصاف ہے کہ وزیراعظم کے دوستوں پر الزام لگے تو وہ جیل نہ جائیں اور ان کے رشتہ داروں پر الزام لگائے تو کچھ نہ ہو۔

انھوں نے سوال اٹھایا کہ رائے ونڈ کے وزیراعظم کو سزا کے باوجود بیرون ملک بھیجا جاتا ہے اور وہ لندن میں بیٹھے ہیں۔ لیکن اگر نواب شاہ کا صدر ہو تو تین سال طبی ضمانت پر رہتا ہے اور بیرون ملک نہیں جاتا۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ پاکستان،آئین اور قانون کے ساتھ مذاق ہے کہ دوغلا نظام چلتا ہے۔ قائد حزب اختلاف پنجاب سے ہو تو ضمانت ہوجاتی ہو اور اگر قائد حزب اختلاف سکھر کا ہو تو ایک عدالت سے دوسری عدالت طلبی ہوتی ہے۔

انھوں نے یہ بھی پیش کش کی حکومت کے بجٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے پیپلزپارٹی کے تمام اراکین اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے ساتھ ہونگے۔

پاکستان مسلم لیگ سے متعلق انھوں نے کہا کہ اس جماعت نے تمام اختلاف کے باوجود ہمارے ساتھ کام کیا۔ اب حالات کچھ ناساز ہیں تاہم جب اور جیسے قوم کو ضرورت پڑے گی اختلاف کو بھلا کر ساتھ کام کریں گے۔

انھوں نے یہ بھی کہا پنجاب حکومت کو عثمان بزدار کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا ہے اور اپوزیشن پنجاب کو بچاسکتی ہے لیکن وہ ایسا کرتے نہیں ہیں اس لیے دال میں کچھ کالا لگتا ہے۔ استعفیٰ کی سیاست کرنےوالوں کو اب تک استعفیٰ دےدینا چاہیےتھا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جو بیان بازی معیشت کے بارے میں ہو رہی ہے اس سے لگتا ہے کہ وزیراعظم کا عوام سے تعلق نہیں ہے۔ حکومت کو پتہ ہی نہیں کہ عام آدمی کس دکھ سے گزر رہا ہے اور وزیر اعظم کہتے ہیں کہ مشکل وقت ختم ہو چکا ہے۔عام آدمی کا نیا دن گزشتہ روز سے مشکل ہوتا ہے۔غربت اور بے روزگاری انتہا تک پہنچ چکی ہے۔

چئیرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ  اس وقت ملک ميں تاريخی مہنگائی ہے۔ ہم بجٹ کا انتظار کررہے ہیں جو اگلے ہفتے پیش ہوگا۔ حکومت ایک طرف کہتی ہے کہ  جی ڈی پی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو حکومت آئی ایم ایف اور عرب ممالک سے بھیک کیوں مانگ رہی ہے۔ معیشت بہتر ہوئی ہے تو امید ہے کہ تنخواہوں میں 100  فیصد اضافہ کریں گے اور پنشن کو 150 فیصد تک بڑھا دیں گے۔بجٹ میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

بجٹ 22-2021 کا مجموعی حجم آٹھ ہزار روپے ہونے کا امکان 

بجٹ 22-2021 کا مجموعی حجم آٹھ ہزار روپے ہونے کا امکان 

چمچ بھی چپک رہاہے اوربلب بھی جل رہاہے، ایازسموں

چمچ بھی چپک رہاہے اوربلب بھی جل رہاہے، ایازسموں