in

انسانی جانوں،اعضاء سےمسلسل کھیلتی بارودی سرنگیں

انسانی جانوں،اعضاء سےمسلسل کھیلتی بارودی سرنگیں

خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں جا بجا دبی بارودی سرنگیں اب تک لاتعداد افراد کی جانیں نگلنے کے علاوہ متعدد کو معذور بناچکی ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ عرصہ دراز سے جاری ایسے دھماکوں کا تازہ شکار جنوبی وزیرستان کے تین ننھے شہداء ہیں جن کے والدین و دیگر لواحقین منگل کے روز سے بارودی سرنگ کی بھینٹ چڑھنے والے تینوں بچوں کی میتیں لیے دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔

جنوبی وزیرستان سب ڈویژن لدھا کے علاقے ٹنگی بودینزئی میں منگل کی شام بارودی سرنگ پھٹ جانے کے نتیجے میں شہید ہونے والے تینوں بچوں کے لواحقین نے تدفین سے انکار کرکے اشکر کوٹ کے مقام پر خیمے لگا کر 3 دنوں سے دھرنا دیا ہوا ہے۔

گو شرکاء کے ساتھ ضلعی انتظامیہ کے مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے لیکن تاحال مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

دھرنے پر بیٹھے احتجاجیوں نے شہید ہونے والے بچوں کو شہدا پیکج دینے سمیت علاقے سے بارودی سرنگیں صاف کرنے اور بچوں کے لواحقین کو سرکاری نوکریاں دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ضم اضلاع میں بارودی سرنگوں کا مسئلہ عرصہ دراز سے چلا آ رہا ہے تاہم تازہ واقعے کے بعد علاقے سے بارودی سرنگیں ہٹانے کے مطالبے میں شدت آ گئی ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ 10 برسوں کے دوران بارودی سرنگوں کے پھٹنے کے درجنوں واقعات میں متعدد افراد جاں بحق جب کہ درجنوں معذور ہو چکے ہیں۔

غالب خیال یہ ہے کہ علاقے میں لگائی گئی زیادہ تر بارودی سرنگیں دہشت گردوں نے اپنے مورچے اور کمین گاہیں محفوظ بنانے کے لیے بچھائی ہیں تاہم پی ٹی ایم کی جانب سے اس عمل کا الزام سیکورٹی فورسز پر عائد کیا جاتا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل افتخار بابر نے حالیہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ابھی تک جنوبی وزیرستان سمیت مختلف قبائلی علاقوں میں 48 ہزار سے زائد بارودی سرنگیں ناکارہ بنائی جا چکی ہیں جبکہ باقی سرنگوں کے حوالے سے کام جاری ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

حماس اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کے روشن امکانات، رپورٹ

حماس اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کے روشن امکانات، رپورٹ

ویڈیو:لاہورمیں پولیس اہلکارکے قتل سے پہلے ملزمان نے دکان لوٹی

ویڈیو:لاہورمیں پولیس اہلکارکے قتل سے پہلے ملزمان نے دکان لوٹی