in

سندھ ہائیکورٹ نے پبلک سروس کمیشن کے امتحانات کالعدم قراردیدیئے

سندھ ہائیکورٹ نے پبلک سروس کمیشن کے امتحانات کالعدم قراردیدیئے

 سندھ ہائیکورٹ سرکٹ بنچ نے پبلک سروس کمیشن کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے کمبائن کمپیٹیٹو امتحانات 2018ء کے تحریری و زبانی امتحانات کالعدم قرار دیتے ہوٸے میڈیکل افسر کیلئے پاس ہونیوالے 1783 امیدواروں کے امتحانات بھی دوبارہ کرنے کا حکم جاری کردیا۔

سندھ ہائیکورٹ سرکٹ بنچ حیدرآباد نے میڈیکل افسر کی اسامیوں پر بھرتیاں کالعدم قرار دے دیتے ہوٸے چیئرمین اور ممبران کا تقرر بھی کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ وزیراعلیٰ سندھ کو قانون کے مطابق چیئرمین اور ممبران کی تقرری کا اخیتار نہیں ہے، سیاسی بنیادوں پر کی جانیوالی تعیناتی پر غیرجانبدار نہیں رہا جاسکتا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے ہول سیل کرپشن کی ون ونڈو سہولت دے دی گئی ہے، پبلک سروس کمیشن کے جاری کردہ امتحانی نتائج شکوک و شبہات کا باعث ہیں، کمیشن شفاف امتحانات کے انعقاد میں مکمل ناکام رہا ہے، میرٹ کے مطابق ثمرات نہیں مل رہے، امتحانی طریقۂ کار میرٹ کا گلا گھوٹنے کے مترادف ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ کمیشن نے سپریم کورٹ از خود نوٹس 2013ء مسابقتی امتحانات کی سنگین خلاف ورزی کی ہے، ایسی مؤثر قانونی سازی ہونی چاہئے کہ کسی امیدوار کی طرفداری کا تاثر نہ ملے، میرٹ کی خلاف ورزی میں کمیشن حکام کی ملی بھگت شامل ہے۔

سندھ ہائیکورٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ چیئرمین اور ممبران سے کوئی حلف نہیں لیا جاتا، بس تعیناتی کردی جاتی ہے، عدالت مسابقتی امتحانات 2018ء اور میڈیکل آفیسر کی آسامیوں پر کی جانیوالی تقرریاں، سلیکشن تحریری و زبانی امتحانات کو کالعدم قرار دیتی ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

شادی کے بعد جیاعلی اورعمران ادریس کا پہلا انٹرویو

شادی کے بعد جیاعلی اورعمران ادریس کا پہلا انٹرویو

لاک ڈاؤن کی وجہ سے بیروزگاری بالی ووڈ کی 2 اداراکارائیں جسم فروشی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑی گئیں

لاک ڈاؤن کی وجہ سے بیروزگاری بالی ووڈ کی 2 اداراکارائیں جسم فروشی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑی گئیں