in

محسن داوڑکا پارٹی بنانے کااعلان، پی ٹی ایم کامستقبل کیاہوگا؟

محسن داوڑکا پارٹی بنانے کااعلان، پی ٹی ایم کامستقبل کیاہوگا؟


پختون تحفظ موومنٹ ویسے تو کافی عرصے سے اندرونی اختلافات اور گروپ بندیوں کا شکار تھی لیکن ایک معاملہ اتنا اختلافی تھا کہ جس کے باعث تحریک کے اہم رہنما اجلاسوں میں ایک ساتھ شرکت نہیں کرتے بلکہ اس کے لیے علیحدہ اجلاس طلب کرتے تھے۔ وہ سنگین مسئلہ ہے اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ آیا مستقبل میں تحریک ایک سیاسی و پارلیمانی پارٹی کے طور پر چلائی جائے یا اسے عام انتخابات کے عمل سے دور ہی رکھا جائے۔ تاہم گزشتہ روز محسن داوڑ نے ایک علیحدہ پارٹی بنانے کا اعلان کردیا جو پارلیمانی سیاست میں حصہ لے گی۔
اس حوالے سے محسن داوڑ نے صوابی میں پروفیسر اسماعیل کی رہائشگاہ پر ایک اجلاس طلب کیا تھا جس میں ملک بھر سے آئے ہوئے ان کے ہم خیال سیاسی کارکنوں نے شرکت کی تھی۔ اجلاس کے بعد اپنے جاری بیان میں محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ یہ اجلاس پچھلے کچھ عرصے سے چلنے والے سیاسی مشاورتی عمل کا تسلسل تھا جس میں باقاعدہ طور پر ملکی سطح پر ایک نئی پارٹی تشکیل دینے کا اصولی اتفاق کیا گیا۔ محسن داوڑ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سلسلے میں عنقریب پارٹی کی آرگنائزنگ کمیٹی سیمت پارٹی کے نام اور منشور کا اعلان کردیا جائے گا۔
محسن داوڑ اور منظور پشتین میں پی ٹی ایم کو پارلیمانی بنانے یا غیر پارلیمانی رکھنے کی کشمکش کافی عرصے سے جاری تھی۔ دتہ خیل جلسے میں جب محسن داوڑ نے کہا کہ افغان حکومت بھی افغان طالبان کو پارلیمانی سیاست کی طرف آنے کا مشورہ دے رہی ہے تو اس پر منظور پشتین کا جواب تھا کہ اشرف غنی نے طالبان کو عوام کی رائے پر چلنے کا کہا ہے اور پی ٹی ایم ایک غیر پارلیمانی جماعت ہی رہے گی۔
محسن داوڑ کا ساتھ دینے والوں میں افراسیاب خٹک، بشریٰ گوہر، پروفیسر اسمٰعیل، فضل خان ایڈوکیٹ اور جمال داوڑ بھی شامل ہیں جبکہ منظور پشتین کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد علاقائی سطح پر متحرک سیاسی کارکنوں کی ہے۔

محسن داوڑ کے اعلان پر پی ٹی ایم کارکنوں کا ردعمل

اس وقت سوشل میڈیا پر منظور پشتین اور محسن داوڑ کے حامی ایک دوسرے پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔ جس سے پی ٹی ایم کے حمایتیوں میں بے یقینی کی صورتحال پائی جاتی ہے۔
پختون تحفظ موومنٹ کے سرگرم سوشل میڈیا کارکن حیات پریغال نے محسن داوڑ کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اللہ آپ لوگوں کو کامیاب کرے، ہماری نیک خواہشات آپ کے ساتھ ہیں اور امید ہے کہ نفرت کا کاروبار کرنے والے اب سنبھل جائیں گے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ہر کسی کو حق ہے کہ وہ اپنی اور قوم کی بہتری کے لیے ایسا راستہ چنے جس سے ٹکراؤ کا ماحول نہ بنے۔
پی ٹی ایم کے ایک اور کارکن خان اورکزئی نے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ پارٹی بنانا ہر کسی کا حق ہے امید ہے پی ٹی ایم میں پارلیمانی اور غیر پارلیمانی جیسی بے معنی بحث اب حتم ہوجائے گی، اب ہر کسی کو اپنی منزل کا پتہ ہوگا اور ہر کوئی اپنا کام کرے گا۔
ایک اور پی ٹی ایم سپورٹر مجید محسود کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات پر بہت افسوس ہوا کیوں کہ بہت سارے افراد کی آپ لوگوں سے امیدیں وابستہ تھیں کہ آپ قوم کے لیے کچھ کریں گے، محسن داوڑ ان لوگوں کو کیا جواب دیں گے۔
پختون تحفظ موومنٹ کے ایک اور کارکن عثمان وزیر نے محسن داوڑ کے فیصلے کو مفاد پرستی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کو تو پی ٹی ایم نے شہرت بخشی ورنہ اس سے پہلے تو کوئی ان کے نام سے بھی واقف نہیں تھا۔
العرض محسن داوڑ کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر پختون تحفظ موومنٹ کے کارکن مکمل طور پر منقسم نظر آرہے ہیں۔

رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کا نئی پارٹی سے متعلق مؤقف

محسن داوڑ کا نئی پارٹی کے حوالے سے مؤقف یہ ہے کہ پی ٹی ایم کے اہداف درست ہیں مگر ہمیں پارلیمانی سیاست کےلیے ایک پلیٹ فارم کی ضرورت تھی جو پی ٹی ایم کے ذریعے ممکن نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ پختون تحفظ موومنٹ میں روز اول سے یہ طے ہوا تھا کہ یہ ایک غیر پارلیمانی تحریک ہوگی۔ اس لیے ہم نے کافی سوچ وبچار کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔
پارٹی میں تقسیم سے متعلق محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ اس قسم کی باتیں ہمارے الیکشن لڑنے کے وقت بھی کی گئی تھیں مگر بعد میں سب ٹھیک ہوگیا۔
محسن داوڑ کا کہنا تھا پی ٹی ایم میں باقی پارٹیوں کے لوگ بھی شامل ہیں اور پی ٹی ایم کا آئین اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہر پارٹی کا رکن تحریک کا رکن بن سکتا ہے شرط صرف یہ ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے پی ٹی ایم کا کوئی عہدہ نہیں لے سکتے۔
محسن داوڑ کا کہنا ہے کہ پی ٹی ایم میں نے بنائی ہے اور میں اس سے الگ نہیں ہوسکتا، وہ ایک مشترکہ تحریک ہے جس کے الگ اہداف ہیں جبکہ نئی بننے والی جماعت کے مقاصد مختلف ہیں۔
محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ میں نے ساری زندگی سیاست میں گزاری ہے پی ٹی ایم کوئی پہلی تحریک نہیں جس کا میں حصہ ہوں۔
علی وزیر سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ جب وہ جیل سے باہر آئیں گے تو وہ اپنا فیصلہ سنائیں گے کہ آیا وہ الگ سیاسی پارٹی کے حق میں ہیں یا نہیں۔
محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ دیگر قوم پرست جماعتیں مسائل کے حل کے لیے وہ کردار ادا نہ کرسکیں جو انہیں ادا کرنا چاہیے تھا۔ ان کامزید کہنا تھا کہ ہماری پارٹی کے آئین اور تنظیمی ڈھانچے کے حوالے مشاورت ابھی جاری ہے اور جیسے ہی حتمی فیصلہ ہوگا تو میڈیا کو آگاہ کردیا جائے گا۔

پی ٹی ایم سربراہ منظور پشتین گروپ کا مؤقف
پی ٹی ایم کراچی کے آرگنائزر نوراللہ ترین نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ تحریک روز اول سے ہی غیرپارلیمانی مزاحمتی تحریک تھی اور آئندہ بھی غیر پارلیمانی رہے گی۔
نوراللہ ترین کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم میں پختون بیلٹ سے تعلق رکھنے والے تمام سیاسی پارٹیوں کے ورکرز موجود ہیں اور تحریک کو سیاسی پارٹی میں بدلنے سے پی ٹی ایم کی طاقت اور مقبولیت میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کا اصل ہدف پختون بیلٹ حصوصاً قبائلی اضلاع میں امن و امان کی بحالی اور آپریشن سے متاثرہ لوگوں کے مسائل حل کرنا ہے۔
محسن داوڑ کے الگ پارٹی بنانے سے متعلق ان کا کہنا تھا منظورپشتین نے محسن داوڑ کو مبارکباد دی ہے لیکن ہمارا محسن داوڑ سے گلہ صرف یہ ہے کہ اس وقت جب ہمیں دوسرے بہت سارے مسائل کا سامنا ہے یہ اعلان تحریک کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔
نورللہ ترین کا کہنا تھا کہ محسن داوڑ نے پہلے بھی الیکشن لڑا ہے اور ان سمیت کسی ورکر کو ہم نے الیکشن میں حصہ لینے سے نہیں روکا بس شرط صرف یہ ہے کہ پی ٹی ایم کے نام پر کوئی الیکشن نہیں لڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پختون تحفظ موومنٹ کے موجودہ آئین جس پر محسن داوڑ کے دستخظ موجود ہیں میں واضح طور پر لکھا ہے کہ یہ پی ٹی ایم ایک غیر سایسی تحریک ہوگی۔
مستقبل میں پی ٹی ایم اور محسن داوڑ کی نئی بننے والی پارٹی کے تعلقات سے متعلق ان کا کہنا تھا یہ محسن داوڑ اور ان کے ساتھیوں پر منحصر ہے کیوں کہ ہم نے کسی بھی سیاسی پارٹی کے کارکن کو تحریک کا حصہ بننے سےاب تک نہیں روکا اور یہی پیمانہ محسن داوڑ کے لیے بھی ہوگا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

چیئرمین نیب آدھی کابینہ کےوارنٹ جاری کرچکے،احسن اقبال

چیئرمین نیب آدھی کابینہ کےوارنٹ جاری کرچکے،احسن اقبال

ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران  اصلی فائرنگ 8 افراد زخمی ہوگئے

ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران  اصلی فائرنگ 8 افراد زخمی ہوگئے