in

فی کس آمدنی میں اضافہ ہورہاہے،خسرو بختیار

فی کس آمدنی میں اضافہ ہورہاہے،خسرو بختیار

وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار خسرو بختیار کا کہنا ہے کہ پچھلی حکومت کا گروتھ ریٹ مصنوعی تھا جو کہ صرف امپورٹ کی بنیاد پر تھا جبکہ موجودہ دور حکومت میں معیشت کی صورتحال بہتر ہورہی ہے اور مالی سال کے آخر تک گروتھ ریٹ 4 اعشاریہ 9 تک پہنچنے کا امکان ہے جبکہ فی کس آمدنی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
سماء کے پروگرام ندیم ملک لایئو میں گفتگو کرتے ہوئے خسروبختیار کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی حکومت نے 5 سال میں 50 ارب ڈالر کا قرضہ لیا تھا اور تقریباً 27 ارب ڈالر واپس کرکے 23 ارب ڈالر کی امپورٹ اور ڈالر کو مصنوعی طور پر مستحکم رکھنے کے لیے استعمال کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اب تک 24 ارب ڈالر قرضہ لیا جس میں سے 22 ارب ڈالر واپس کرچکے ہیں تاہم ہمارے اندرونی قرضوں میں اضافہ ہواہے۔
خسروبختیار کا کہنا تھا کہ پاکستان پر قرضوں کا بوجھ بڑا مسئلہ ہے اور ہمیں آئی ایم ایف کی شرائط پر مشکل فیصلے بھی کرنے پڑے کیوں کہ ہماری توجہ اکنامک گروتھ پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ معیشت میں موجودہ گروتھ زراعت اور کنسٹرکشن سے آرہی ہے اور یہ دونوں سیکٹر غریبوں کی زندگی پر مثبت اثر ڈالیں گے۔
خسروبختیار کا کہنا تھا کہ یہ واحد حکومت جس نے معیشت کے حوالے سے حقیقی نمبر دکھائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ن لیگ 7 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر چھوڑ کر گئی تھی جو اب 20 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما ن لیگ محمد زبیرعمر کا کہنا تھا کہ اگر آپ کے اخراجات زیادہ اور آمدنی کم ہو تو آپ کو قرضے لینے پڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ٹیکس کلیکشن کم ہوجائے تو کسی بھی ملک کی معیشت تباہ ہوجاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے دور میں 2 کروڑ ڈالر کا ٹیکس ریونیو بڑھا تھا۔
زبیرعمر کا کہنا تھا کہ اس حکومت کی کوئی تیاری نہیں تھی پتہ ہی نہیں تھا کہ ایف بی آر چلانی کیسی ہے اور 3 سال میں ایف بی آر کے 5 چیئرمین تبدیل کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے دور حکومت میں 2 کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے اورپر آئے تھے جو اس حکومت میں واپس غربت کی لکیر کے نیچے چلے گئے۔
نون لیگی رہنما نے کہا کہ صنعتوں کے لیے بجلی مہنگی کردی گئی جبکہ ٹیکسز بڑھادیے گئے جس کی وجہ سے معیشت کا بیڑہ غرق ہوگیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صنعتوں کے بغیر معیشت نہیں چل سکتی۔
زبیرعمر کا کہنا تھا کہ تجارتی خسارہ ہمارے دورحکومت کے آخری سال بڑھا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ملک میں بجلی کے کارخانوں کے لیے مشینری امپورٹ ہورہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کے لیے بنیادی کام ٹیکس کلیکشن بڑھانا ہوتا ہے مگر یہ حکومت ابھی تک اس میں ناکام ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا کام فیکٹریاں لگانا ہوتی ہے لنگر خانے نہیں۔
زبیرعمر کا کہنا تھا کہ کم ٹیکس کلیکشن کی وجہ سے ملک کی تمام صوبائی حکومتوں کو اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

وزیر خارجہ کی پاکستان میں امریکی فوجی اڈوں سےمتعلق وضاحت

وزیر خارجہ کی پاکستان میں امریکی فوجی اڈوں سےمتعلق وضاحت

لیاقت آباد بلڈنگ حادثہ، مزید 2 بچے دم توڑ گئے

لیاقت آباد بلڈنگ حادثہ، مزید 2 بچے دم توڑ گئے