in

نیب نے 484 ارب روپے کی ریکوری کی،بابراعوان

نیب نے  484 ارب روپے کی ریکوری کی،بابراعوان

مشیرپارلمیانی امور بابر اعوان کا کہنا ہے کہ نیب نے سن 1999 سے سن 2017 تک صرف 290 ارب روپے ریکور کیے تھے جبکہ ہمارے ڈھائی سالہ دور میں 484 ارب کی ریکوری ہوچکی ہے۔
سماء کے پروگرام سات سے آٹھ میں گفتگو کرتے ہوئے بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ہم نے اداروں میں مداخلت کی پالیسی ختم کی اور ہمارے دور میں ادارے سیاسی مداخلت سے آزاد ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم ماضی کا افسانہ ہے جسے پی ڈی ایم کی جماعتوں کو بھی بھول جانا چاہیے۔بابراعوان کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کو متحرک کرنے والے نواز شریف مفرور ہیں جبکہ پارٹی صدر بھی مفرور ہونا چاہتے تھے۔
بابراعوان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی شہبازشریف کے خلاف عدالت کا فیصلہ آیا تو انہوں نے تحریک کا عندیہ دیدیا اگر کل کو عدالت کا فیصلہ حق میں آگیا تو یہ دوبارہ اتحدیوں سے بے وفائی کرکے لندن چلے جائیں گے۔
بابراعوان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کا شروع دن سے کوئی واضح ایجنڈا نہیں تھا۔ پی ڈی ایم کی تشکیل کے وقت حکومت کے خاتمے کا اعلان کیا گیا مگر عوام کو مطمئن نہیں کرسکے۔
بابر اعوان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی ہر تحریک کا ایک مقصد ہوتا ہے اور وہ ہے این آر او اور اس کا ایک ہی جواب جو وزیراعظم نے دیا وہ ہے نو این آر او۔
جہانگیر ترین کیس سے متعلق بابراعوان کا کہنا تھا کہ جب کسی کے خلاف کیس بنے تو اس کے لڑنے کی بہترین جگہ عدالت ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نے کبھی اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ زیادتی نہیں کی تو جہانگیرترین کے ساتھ کیوں کریں گے۔
بابراعوان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے جہانگیرترین کے تحفظات دور کرنے کے لیے بیرسٹر علی ظفر کی صورت میں ایک رکنی کمیٹی بنائی ہے اور جو بھی حقیقت ہوگی وہ ان کی رپورٹ میں سامنے آجائے گی۔
عثمان بزدار کے کارکردگی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اگر پرفامنس سے مراد ڈرامہ بازی ہے تو اس میں تو وہ ناکام ہیں مگر حقیقی کاکردگی ان کی بہترین ہے۔
پنجاب میں ڈھائی سال میں کوئی اسکینڈل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی کوئی بد انتظامی ہوئی جبکہ کرونا کو اچھے طریقے سے کنٹرول کیا گیا۔
بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ماضی کی حکومتوں میں معیشت برباد ہوئی اگر معیشت کی بربادی نہیں ہوئی تھی تو پہلے دن اپوزیشن کی طرف سے یہ کیوں کہا گیا کہ میثاق معیشت کرلیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں حلف برداری سے متعلق ایک آرڈیننس زیرغور ہے جس کے مطابق منتخب رکن کو 2 ماہ کے اندر اسملبی یا سینیٹ رکنیت کا حلف اٹھانا ہوگا دوسری صورت میں اسپیکر اسمبلی الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیجے گا اور متعلقہ سیٹ پر دوبارہ الیکشن ہوگا۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما ن لیگ عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ شہبازشریف نے اپوزیشن رہنماؤں کو عشایے میں دعوت بطور اپوزیشن لیڈر دی ہے تاکہ ہاؤس کے اندر کوآرڈینیشن مزید بہتر بنائی جاسکے۔
انہوں نے کہا بلاول بھٹوز رداری ملک میں نہیں ہے اس لیے وہ عشایے میں شرکت نہیں کرسکیں گے مگر پیپلزپارٹی کا وفد اس میں شرکت کریں گے۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے معاملات مولانا فضل الرحمان بطور صدر دیکھ رہے ہیں اور انہوں نے تمام اپوزیشن رہنماؤں کو بیان بازی سے روک دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر ہمارے تحفظات ہیں اور یوسف گیلانی کو بطور اپوزیشن لیڈر سینیٹ میں تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ پی ڈی ایم اجلاس میں ہوگا۔
چوہدری نثار سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وہ 3 سال بعد آرڈیننس کی وجہ سے ہی حلف اٹھا رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چوہدری نثار پارٹی چھوڑ چکے ہیں اور انہوں نے مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے نہیں بلکہ آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا تھا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

خواتین کھلاڑیوں کی کرونا ویکسینیشن کاآغاز کل سےہوگا

خواتین کھلاڑیوں کی کرونا ویکسینیشن کاآغاز کل سےہوگا

زویا ناصر سے منگنی ختم کرنے پر جرمن وی لاگر کی وضاحت

زویا ناصر سے منگنی ختم کرنے پر جرمن وی لاگر کی وضاحت