in

قائداعظم مزار ریپ کیس: 3ملزمان کی بریت کا فیصلہ کالعدم

rape-4

سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میں اجتماعی ریپ کے 3ملزمان کو بری کرنے کا سیشن عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

جمعہ 21مئی کو ہائی کورٹ نے سیشن عدالت کو 3ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیا۔

خاتون سے تين افراد کی اجتماعی ریپ کا یہ واقعہ سال 2008 میں نمائش چورنگی کے قریب قائداعظم کے مزار پر پیش آیا تھا۔

سیشن عدالت نے 2013 میں تینوں ملزمان کو عدم ثبوت پر بری کر دیا تھا۔ تاہم خاتون نے ان کی بریت کو چیلنج کیا اور اس کی درخواست کو عدالت نے منظور کرلیا تھا۔

ملزمان قائداعظم مزار کے اندر ہی کام کرتے تھے جنہوں نے خاتون کو اجتماعی ریپ نشانہ بنایا تھا۔ خاتون کی عمر اس وقت 18سال تھی۔ خاتون اپنی فیملی کے ہمراہ لودھراں سے کراچی آئی تھی۔

خاتون کے والد نے بریگیڈ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کروایا تھا جس میں ملزمان پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے بیٹی کو اغوا کر کے اسکے ساتھ اجتماعی ریپ کیا۔

مزار کے سابق سیکیورٹی گارڈ خادم حسین، اکاؤنٹنٹ راجہ عارف اور اسسٹنٹ برائے ریذیڈنٹ انجینئر عارف انصار کو ڈی این اے رپورٹ میں تصدیق کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Naeem Ashraf Butt Art Final

شوگر تحقیقات میں صرف جہانگیرترین کیخلاف کارروائی ٹھیک نہیں،علی ظفر

ایک ہی دن میں سونا اتنا زیادہ مہنگا ہوگیا کہ پاکستانی کانوں کو ہاتھ لگالیں

ایک ہی دن میں سونا اتنا زیادہ مہنگا ہوگیا کہ پاکستانی کانوں کو ہاتھ لگالیں