in

کےفور منصوبہ: سندھ ہائیکورٹ کا وفاق اور سندھ کو نوٹس

K-IV-INTAKE

سندھ ہائی کورٹ نے کے فور منصوبہ کی عدم تکمیل پر وفاقی وزارت ترقی و منصوبہ بندی اور سندھ حکومت کو نوٹس جاری کر دیے۔

پیر 25 جنوری کو کراچی میں پانی کی قلت اور کے فور منصوبہ کی عدم تکمیل سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ درخوست گزار نے عدالت کو بتایا کہ کے فور منصوبہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے التوا کا شکار ہے۔

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ کراچی والے پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں۔ سندھ اور وفاق کے درمیان تنازعات کا خمیازہ کراچی والے بھگت رہے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ وزراء صرف بیانات دیتے ہیں کہ ترقیاتی منصوبے تیزی سے مکمل ہوں گے۔

سماعت کے بعد عدالت نے وفاقی وزارت ترقی و منصوبہ بندی اور سندھ حکومت کو نوٹس جاری کر دیے۔ وفاقی حکومت سے کے فور منصوبے کی تفصیلات اور جواب طلب کرلیا۔

کے فور منصوبے کی مختصر تاریخ

کراچی کو 650 ملین گیلن ڈیلی (ایم جی ڈی) اضافی پانی کی فراہمی والے اس کے فور منصوبے کا آغاز سن 2002 میں ہوا تھا اور اس حوالے سے ڈیزائن اور فیزیبلٹی رپورٹ کی تیاری کے لیے کنسلٹنسی کا ٹھیکہ میسرز عثمانی اینڈ کمپنی لمیٹڈ کو دیا گیا تھا۔

اسٹڈی سن 2007 میں مکمل ہوئی تھی لیکن کنسلٹنسی کمپنی نے 9 میں سے 8 مجوزہ روٹس کو فائنل کیا تھا۔ منصوبے کو تین مرحلوں میں بانٹا گیا تھا اور پہلے مرحلے میں 260 ملین گیلن پانی روزانہ فراہم کیا جانا تھا۔ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں 260 ایم جی ڈی اور تیسرے میں 130 ایم جی ڈی پانی کی فراہمی کی جانی تھی۔

کیاواپڈا کےفور منصوبے کی تکمیل کی ذمہ داری نبھالے گا؟

منصوبے کی ابتدائی لاگت 25 ارب روپے تھی۔ سن 2011 میں منصوبے کا پی سی ون تیار کیا گیا جس کی منظوری قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے سن 2014 میں دی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو منصوبے خرچہ یکساں طور پر اٹھانا تھا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ: ٹرافی کی رونمائی کردی گئی

پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ: ٹرافی کی رونمائی کردی گئی

جھنگ: فیسکوکی نجکاری کےخلاف واپڈا ملازمین کی ہڑتال

جھنگ: فیسکوکی نجکاری کےخلاف واپڈا ملازمین کی ہڑتال