in

اقوام متحدہ سے انصاف کی کوئی امید نہیں، فلسطینی سفارتکار

اقوام متحدہ سے انصاف کی کوئی امید نہیں، فلسطینی سفارتکار

پاکستان میں فلسطینی مشن کے ڈپٹی ہیڈ نادر الترک کا کہنا ہے کہ مسلم ممالک کا فلسطین اور فلسطینی عوام کے دفاع میں اہم کردار ہے لیکن ہمیں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے غیر جانب داری اور انصاف کی کوئی توقع نہیں۔
سماء کے پروگرام آواز میں گفتگو کرتے ہوئے نادر الترک کا کہنا تھا کہ امریکا مسئلے کے حل کے لیے اقوام متحدہ کو موقع نہیں دے رہا اور وہ اسرائیل کی مدد کررہا ہے جس کی وجہ سے اسرائیل کو مزید مظالم کا حوصلہ مل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے وزرائے خارجہ مل کر کوشش کررہے ہیں کہ اقوام متحدہ کو معاملے پر اعتماد میں لے کر مسئلے کے حل پر زور دیا جائے اور ہمیں امید ہے کہ یہ کوشش کامیاب ہوگی۔
نادر الترک کا کہنا تھا کہ پاکستان طویل عرصے سے فلسطین کے لیے کوشش کررہا ہے جو قابل تعریف ہیں اور پاکستان کے ٹھوس مؤقف کو فلسطینی عوام اور حکومت سراہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف جو ممکن ہے وہ کررہے ہیں اور ہمیں خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ مزید کارروائیاں کرے گا۔
نادر الترک کا کہنا تھا کہ تمام عرب ممالک ہمارے ساتھ ہیں تاہم اقوام متحدہ میں لابنگ کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کی مجرمامہ قیادت پر دباؤ ڈالنا ہوگا جسے نہ انسانی حقوق کی پرواہ ہے اور نہ ہی بین الاقوامی قوانین کی کوئی فکر ہے۔
نادر الترک کا کہنا تھا کہ اسرائیل خود کو کسی بھی قانون سے بالاتر سمجھتا ہے اور مسلم امہ و عرب ممالک کو مزید محنت کی ضرورت ہے جسے سے انشاء اللہ ہمیں کامیابی ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ عرب ممالک نے سن 2002 میں ایک امن منصوبہ بنایا تھا لیکن صرف اسرائیل اس کی پاسداری نہیں کررہا۔
امن منصوبے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس کا پہلا نکتہ یہ تھا کہ فلسطینی علاقوں پر قبضہ بند کیا جائے اور غزہ اور مغربی کنارے پر فلسطینی ریاست کے قیام میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے جس کے بعد مسلم ممالک اسرائیل سے تعلقات بحال کرلیتے مگر اسرائیل کو مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کی بحالی میں دلچسپی نہیں۔
نادر الترک کا کہنا تھا کہ موجوہ تنازع بھی یروشلم سے شروع ہوا جب اسرائیلی مسلمانوں کو مسجد الاقصیٰ میں عبادت نہیں کرنے دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکالا جارہا ہے اور اس وقت اہل فلسطین ایک عجیب صورتحال سے دوچار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیل پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالا جائے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے کیوں کہ سب کو حق حاصل ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی حفاظت کرے ہم پر اسرائیل کا قبضہ ہے اور ہمیں اپنے تحفظ کا حق حاصل ہے۔
نادر الترک نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مسلم ممالک اقوام متحدہ کو سمجھائیں کہ دفاع کا حق صرف اسرائیل کو نہیں بلکہ ہمیں بھی حاصل ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

اطالوی ملازمین کا اسرائیلی اسلحہ لوڈکرنےسےانکار

اطالوی ملازمین کا اسرائیلی اسلحہ لوڈکرنےسےانکار

معروف گلوکارہ آریانا گرینڈی بھی شادی کے بندھن میں بندھ گئیں

معروف گلوکارہ آریانا گرینڈی بھی شادی کے بندھن میں بندھ گئیں